Baaghi TV

ایلون مسک کا ویکسین سے متعلق چونکا دینے والا بیان

elon

‎ٹیکنالوجی کی دنیا کی نمایاں شخصیت ایلون مسک نے ایک بار پھر کورونا ویکسین کے حوالے سے جاری بحث کو تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سابق فارماسیوٹیکل ماہر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ویکسین کی حفاظت پر سوالات اٹھائے اور اپنے ذاتی تجربے کا بھی ذکر کیا، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
‎تفصیلات کے مطابق ایلون مسک نے جرمنی کے سابق ماہرِ ٹاکسیکولوجی ڈاکٹر ہیلمٹ سٹرز کی ایک ویڈیو کو شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں ڈاکٹر سٹرز نے دعویٰ کیا کہ ایم آر این اے ویکسینز کو منظوری نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ویکسینز کے استعمال کے نتیجے میں ہزاروں اموات ہو سکتی ہیں، جبکہ ان کے مطابق منظوری سے قبل مکمل حفاظتی جانچ بھی نہیں کی گئی۔
‎ڈاکٹر سٹرز کو ماضی میں یورپی سطح پر اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے اور انہیں جرمن پارلیمانی کمیشن کے سامنے بھی طلب کیا گیا تھا۔ 19 مارچ 2026 کو دی گئی اپنی گواہی میں انہوں نے الزام لگایا کہ فائزر بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری سے پہلے ضروری ٹیسٹ مکمل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے جرمن ویکسین سیفٹی ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ہونے والی اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
‎دوسری جانب جرمن وزیر صحت کارل لاؤٹرباخ اور دیگر طبی ماہرین نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسینز کو منظوری دینے سے پہلے ہزاروں افراد پر مشتمل کلینیکل ٹرائلز کیے گئے تھے، اور ہر رپورٹ ہونے والے کیس کی سائنسی بنیادوں پر مکمل جانچ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ویکسین کے بعد کسی بھی موت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی وجہ ویکسین ہی ہو۔
‎ایلون مسک نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویکسین سے پہلے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے تھے، جو ان کے مطابق عام فلو جیسا تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی دوسری خوراک لینے کے بعد انہیں شدید طبیعت خراب ہونے کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا محسوس ہوا جیسے وہ مر رہے ہوں۔
‎مسک کے اس بیان اور ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے اثرات، اس کی حفاظت اور عالمی اداروں کے کردار پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

More posts