Baaghi TV

اتصالات سے واجبات کی فوری وصولی کا مطالبہ، رقم بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی اتصالات کو فروخت کے بعد واجب الادا رقم کی فوری وصولی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، جو 2005 میں 80 کروڑ ڈالر تھی اور 20 سال تک عدم ادائیگی کے باعث بڑھ کر تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنے 3.5 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، جسے 2019 سے مسلسل رول اوور کیا جا رہا تھا۔مشیرِ نجکاری کے نام لکھے گئے ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے 2011 میں چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز اتصالات 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے جو اس وقت بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر ہوچکے تھے۔ اب مزید 15 سال گزرنے کے بعد یہ رقم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جسے خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مالکان سے وصول کرنے کی ضرورت ہے، اس نے پی ٹی اے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 2 فیصد جرمانے کے مد میں ہونے والے نقصان کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا تخمینہ سات سال (2005 سے) کے دوران 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے ساتھ میسرز اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، پی ٹی اے کی جانب سے مبینہ طور پر میسرز اتصالات کو دی گئی غیر ضروری رعایت پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان واجب الادا ادائیگیوں (ڈیفالٹڈ پیمنٹس) کا معاملہ اٹھائے

More posts