متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے جنوبی علاقے میں واقع جبل علی صنعتی زون اور بندرگاہ کے قریب بدھ کی صبح متعدد دھماکوں اور گہرے دھویں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اماراتی حکام نے تقریباً 20 منٹ کے دوران کم از کم سات دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم واقعے کی وجہ کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ذرائع نے واقعے کے حوالے سے متضاد دعوے کیے ہیں۔ بعض عراقی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ یمن سے داغے گئے میزائلوں نے علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب اماراتی میڈیا نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی، لیکن ان کی نوعیت یا وجہ سے متعلق سرکاری تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رپورٹس کے مطابق ناسا کی تھرمل سیٹلائٹ تصاویر میں جبل علی بندرگاہ کے قریب ایندھن کے ذخیرہ اور منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے ایک گودام میں آگ کے آثار دیکھے گئے ہیں، جس کے بعد واقعے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اماراتی حکام نے آگ کی ویڈیو بنانے والے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کی جانب سے ان گرفتاریوں کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسی دوران یمن کے دارالحکومت صنعا سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض ذرائع نے ان دھماکوں کو فضائی حملے کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں یمن سے میزائل داغے جانے کے باعث سنائی دیں۔ ان متضاد دعوؤں کی بھی فی الحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اب تک کسی جانی نقصان یا مالی نقصانات کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ اماراتی حکام واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے قریب دھماکے
