یورپ اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جہاں کئی ممالک میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔ اسپین میں صرف چار روز کے دوران گرمی سے متعلق مختلف واقعات میں 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
برطانیہ میں محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر حصوں کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ میں کل رات تک توسیع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو ملک کے لیے غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
برطانوی علاقے سرے میں جون کے مہینے کی گرمی کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 1976 میں جون کے دوران 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ قائم ہوا تھا۔
ادھر فرانس بھی شدید ہیٹ ویو سے متاثر ہے، جہاں گرمی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ دارالحکومت پیرس میں بھی پارہ 40 ڈگری تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اٹلی میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں حکومت نے 16 بڑے شہروں میں شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بزرگ افراد، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا شہری شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے پانی کا زیادہ استعمال، دھوپ سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین میں 200 سے زائد اموات، برطانیہ اور فرانس میں ریڈ الرٹ
