فلم اور ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ کامیا پنجابی نے پہلی بار اپنی شادی شدہ زندگی میں پیش آنے والے گھریلو تشدد کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کئی سال تک جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنے کی دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کی ہیں۔
سدھارتھ کنن کو دیے گئے انٹرویو میں 47 سالہ اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کاروباری شخصیت بنٹی نیگی سے محبت کی شادی کی تھی اور اس رشتے سے ان کی ایک بیٹی ہے۔ کامیا کے مطابق وہ طویل عرصے تک اپنی بیٹی کی خاطر شوہر کا تشدد خاموشی سے برداشت کرتی رہیں، لیکن بعد میں اسی بیٹی کی وجہ سے انہیں اس رشتے کے خلاف فیصلہ کرنا پڑا۔
اداکارہ نے بتایا کہ شوہر کے تشدد سے لگنے والے زخم چھپانے کے لیے وہ اپنی بیٹی سے کئی بار جھوٹ بولتی تھیں اور زخموں کی مختلف وجوہات بتا کر اسے حقیقت سے دور رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ وہ کام پر جانے سے پہلے چہرے پر بھاری میک اپ کرتیں تاکہ مارپیٹ کے نشانات کسی کو نظر نہ آئیں۔
کامیا نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایوارڈ وصول کرنے گئیں تو اندر سے شدید ٹوٹ چکی تھیں۔ ان کے بقول، دنیا انہیں ایوارڈ دے رہی تھی جبکہ گھر میں انہیں ایسے جرم کی سزا مل رہی تھی جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔
اداکارہ کے مطابق وہ اکثر واش روم میں خود کو بند کرکے گھنٹوں روتی رہتی تھیں کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ اپنی بیٹی سے چھپ کر اپنے آنسو بہا سکتی تھیں۔ بعض اوقات پوری رات بھی اسی طرح واش روم میں گزری۔
کامیا نے بتایا کہ ان کے سابق شوہر حد سے زیادہ شک کرنے والے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اداکاری چھوڑ دیں۔ کام کے دوران وہ ہر چند منٹ بعد فون کرتے اور مصروفیت کے باعث کال نہ اٹھانے پر مسلسل سوالات کرتے کہ وہ کہاں تھیں، کیا کر رہی تھیں اور کس سے مل رہی تھیں۔
اداکارہ کے مطابق وہ شاید مزید بھی اس صورتحال کو برداشت کرتی رہتیں، لیکن ایک دن ان کی بیٹی نے والد کو ماں پر تشدد کرتے ہوئے خود دیکھ لیا۔ بچی خوفزدہ ہوکر رونے لگی تو کامیا کو احساس ہوا کہ اب اس رشتے میں رہنا صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان کی بیٹی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
انہوں نے اسی موقع پر شوہر کا گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے نکل گئیں۔ کامیا کا کہنا تھا کہ گھر چھوڑتے وقت انہوں نے ایک آنسو بھی نہیں بہایا، تاہم اس تکلیف دہ رشتے کے اثرات سے مکمل طور پر باہر آنے میں انہیں کافی وقت لگا۔اداکارہ نے کہا کہ اس دوران انہوں نے اپنی بیٹی کی بہتر پرورش کے لیے اپنی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو چھپائے رکھا اور زندگی کو دوبارہ سنبھالنے کی کوشش کی۔
