یہ نظم ان ننھی کلیوں کے نام ہے ۔جن کے ہاتھوں میں ابھی تتلیوں کے رنگ، آنکھوں میں خواب اور ہتھیلیوں میں کھلونوں کی دنیا سجی تھی۔ مگر معاشرے کی درند گی نے ان سے بچپن کی معصومیت بھی چھین لی۔ اور ان تمام سوچوں کے نام ایک سوال بھی ہے جو ہر ظلم کے بعد عورت کے لباس اور پردے کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں جب ظلم کا شکار ایک ایسی معصوم بچی ہو جس نے دنیا کو ماں کی گود سے آے دیکھا ہی نہ ہو تو پھر قصور کس کا ہے؟ یہ نظم محض الفاظ نہیں ان معصوم آوازوں کی باز گشت ہے ۔جو سنائی تو نہیں دیتی مگر ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر مسلسل دستک دیتی ہیں۔ پیش خدمت ہے میرے زیر اشاعت شعری مجموعے سائے جو ٹھہر گئے سے ایک آزاد نظم
شاعرہ شمسہ رانی
یہ کیسا عہد ہے جس میں دعائیں خوف کھاتی ہیں
جہاں معصوم کلیاں بھی ہوا سے لرز جاتی ہیں
ابھی تو تتلیوں کے رنگ ہاتھوں میں اترنے تھے
ابھی تو ننھی ہتھیلی میں کھلونوں کی حکومت تھی
ابھی تو دنیا فقط ماں کی اغوش کا نام تھی
ہر شام لوری تھی ہر ایک صبح مسرت تھی
مگر انسان کے چہرے میں چپھے کچھ بھیڑیوں نے
پھر فرشتوں کی ہنسی کو بھی سسکتی رات کر ڈالا
یہ مت کہنا کہ پردہ ہی حفاظت کی ضمانت ہے
ہوس جب اندھی ہو جائے تو ہر دیوار گرا دیتی ہے
ضرورت سوچ بدلنے کی ضمیر نو جگانے کی
کہ بیٹی ہر گھرانے کی مقدس ایک امانت ہے
قلم بھی جاگ اٹھے اب تو عدالت بھی صدا بن جائے
ہر ایک معصوم کی خاطر زمانہ پاسباں بن جائے
نہ نفرت کی نا خاموشی کی اب کوئی گنجائش
ہر ایک بچپن کی خاطر اج بیداری کی ہے خواہش
شمسہ قلم سے حق کی صدا یوں بلند رکھ
شاید کسی کے دل سے اندھیرا نکل سکے
