اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 سمیت اہم پالیسی اور انتظامی امور کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور قومی مفادات کے مؤثر تحفظ کو سراہا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو سفارتی اور دفاعی حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے مسلم امہ میں اتحاد اور یکجہتی کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 اور اس پر عملدرآمد کے ایکشن پلان کی بھی منظوری دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پالیسی قومی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی جبکہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔
پالیسی کا بنیادی مقصد شہریوں کو محفوظ، معیاری اور پائیدار رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ کابینہ نے ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین پر مکمل عملدرآمد، زمین کے بہتر استعمال کے لیے عمودی رہائش کو ترجیح دینے اور توانائی کی بچت سے متعلق ضوابط کو ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم کی اپنا گھر اسکیم پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ مختلف بینکوں کے ذریعے گھر خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے مجموعی طور پر 220 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جاچکے ہیں جبکہ 32 ارب روپے سے زائد کی رقم کامیاب درخواست گزاروں کو جاری کی جاچکی ہے۔
کابینہ نے 1981 میں پاکستان اور سویڈن کے درمیان ہونے والے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے سے متعلق نوٹس واپس لینے کی بھی منظوری دی۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے پیش کیے گئے پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 کی بھی منظوری دے دی گئی۔ فریم ورک کا مقصد سائبر سیکیورٹی کے لیے یکساں بنیادی معیار، مرکزی نگرانی اور مؤثر معلوماتی تحفظ کا نظام قائم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ کابینہ نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 جولائی اور 4 اگست کے فیصلوں اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 24 جولائی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 اور سائبر سیکیورٹی فریم ورک کی منظوری دے دی
