Baaghi TV

فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

shahid khaqan

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہےاٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں، گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے، بد قسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

انہوں نے نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی، عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائےحقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوار ے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں،اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہےمعاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

More posts