پاکستان میں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مسلسل بڑھتے ہوئے چالان بھی شہریوں کے لیے ایک نیا مالی دباؤ بن چکے ہیں۔ قانون کی پابندی ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا مقصد شہری کی اصلاح ہے یا صرف جرمانے وصول کرنا؟
سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موٹر سائیکل سوار کا ہیلمٹ نہ پہننا، غلط سمت میں گاڑی چلانا، سگنل توڑنا، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنا یا دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال خطرناک عمل ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مزدور، دیہاڑی دار، رکشہ ڈرائیور یا کم آمدن والا ملازم اگر معمولی نوعیت کی خلاف ورزی پر ایسا بھاری جرمانہ ادا کرے جو اس کی کئی دن کی آمدن کے برابر ہو، تو اس کے گھر کا بجٹ شدید متاثر ہوتا ہے۔ غریب آدمی کے لیے چند ہزار روپے بھی محض ایک رقم نہیں بلکہ بچوں کے دودھ، راشن، بجلی کے بل یا گھر کے دیگر ضروری اخراجات کا حصہ ہوتے ہیں۔
یہاں ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ضرور کیا جائے، مگر اس کے ساتھ انصاف، تناسب اور انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ جرمانے اتنے ضرور ہوں کہ خلاف ورزی کرنے والا آئندہ احتیاط کرے، لیکن اتنے نہیں کہ ایک غریب شہری قرض لینے یا گھر کی بنیادی ضرورت قربان کرنے پر مجبور ہو جائے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ٹریفک پولیس صرف چالان کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ شہریوں میں ٹریفک شعور اجاگر کرنے پر بھی توجہ دے۔ اسکولوں، کالجوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر آگاہی مہم چلائی جائے۔ پہلی بار معمولی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو، جہاں قانون اجازت دے، وارننگ یا تعلیمی رہنمائی کا موقع بھی دیا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ اگر کسی شہر میں ٹریفک سگنلز خراب ہوں، سڑکوں پر لائنیں واضح نہ ہوں، پارکنگ کا مناسب انتظام نہ ہو، پیدل چلنے والوں کے لیے راستے موجود نہ ہوں اور ٹریفک کا نظام غیر منظم ہو تو ہر ذمہ داری صرف شہری پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں۔ بہتر ٹریفک نظام کے لیے حکومت، انتظامیہ اور شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ریاست کی رٹ ضروری ہے، مگر ریاست کی طاقت کا اصل حسن یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور کمزور شہری کو بھی انصاف کا احساس ہو۔ اگر ایک امیر شخص کے لیے بھاری جرمانہ معمولی بات ہے تو یہی جرمانہ ایک غریب خاندان کے لیے کئی دن کی خوراک چھین سکتا ہے۔ اس لیے ٹریفک جرمانوں کے نظام میں انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ ٹریفک قانون کا مقصد سڑکوں کو محفوظ بنانا ہے، خزانہ بھرنا نہیں۔ اگر چالان کم ہوں کیونکہ لوگ قوانین کی پابندی کرنے لگے ہیں تو یہ ناکامی نہیں بلکہ کامیابی ہے۔حکومت اور ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے ساتھ ساتھ کم آمدن والے شہریوں کے لیے مناسب اور متناسب جرمانوں، آسان ادائیگی کے طریقہ کار اور مؤثر آگاہی پروگراموں پر بھی غور کریں۔غریب آدمی قانون سے بالاتر نہیں، لیکن قانون بھی غریب آدمی کی مجبوریوں سے بے خبر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایسا ٹریفک نظام جو شہری کو سزا دینے کے بجائے اسے قانون کا احترام سکھائے، ہی حقیقی معنوں میں کامیاب نظام کہلائے گا۔
