امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تاریخی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ دور آج سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے جا رہا ہے۔
اہم سفارتی پیش رفت کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے، جبکہ تہران نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کو بھی مذاکراتی عمل سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو لبنان میں جنگ بندی سے مشروط کر رکھا ہے، جبکہ یہ مذاکرات مختلف ثالث ممالک کی موجودگی میں منعقد ہوں گے۔ امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ جیرڈ کشنر پہلے ہی برگن اسٹاک میں موجود ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آج سوئٹزرلینڈ آمد متوقع ہے، جہاں وہ مذاکراتی عمل میں شرکت کریں گے۔ دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی جلد سوئٹزرلینڈ روانگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے ساٹھ روز کی مدت مقرر کی گئی ہے،مذاکرات کے دوران متعدد تکنیکی، مالی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ان سے متعلق معاملات بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
