Baaghi TV

نیپال میں سیلاب کی تباہ کاری، ہر طرف ملبہ مگر ’’معجزاتی گھر‘‘ اپنی جگہ قائم

شدید سیلابی ریلے نے آس پاس موجود مکانات، گاڑیاں اور دیگر ڈھانچے بہا دیے، سبز رنگ کا ایک گھر حیران کن طور پر محفوظ رہا، گھر میں موجود خاندان کو کئی گھنٹوں بعد بحفاظت نکال لیا گیا

کھٹمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران ایک گھر کے حیران کن طور پر محفوظ رہنے کی ویڈیو نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ شدید سیلابی ریلے نے گھر کے اردگرد موجود تقریباً ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کئی مکانات، گاڑیاں اور دیگر ڈھانچے پانی اور ملبے کے ساتھ بہہ گئے، تاہم سبز رنگ کا ایک گھر اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہا، جسے مقامی طور پر ’’معجزاتی گھر‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ نیپال کے ضلع نوواکوت کے تریشولی علاقے میں پیش آیا، جہاں تریشولی دریا میں اچانک شدید طغیانی آئی۔ سیلابی پانی کے ساتھ مٹی، پتھر اور ملبے کا ایک طاقتور ریلا آبادی میں داخل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد موجود عمارتوں کو تباہ کرتا چلا گیا۔دل دہلا دینے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید رفتار سے آنے والا پانی اور ملبہ گھروں سے ٹکرا رہا ہے، جبکہ ایک سبز رنگ کا کثیر المنزلہ گھر اس تباہی کے درمیان بدستور قائم ہے۔ گھر کی نچلی منزل میں سیلابی پانی داخل ہوگیا اور دروازے و کھڑکیاں بھی پانی کے ریلے نے اکھاڑ دیں، تاہم عمارت کا بنیادی ڈھانچہ حیرت انگیز طور پر محفوظ رہا۔اس دوران گھر کی بالکونی میں خاندان کے افراد خوف کے عالم میں موجود رہے اور کئی گھنٹوں تک امداد کے منتظر رہے۔ خاندان کی 42 سالہ خاتون لکشمی پانڈے پیاکوریل نے بتایا کہ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے موت بالکل سامنے کھڑی ہو۔

لکشمی کے مطابق سیلاب کا پانی گھر کو چاروں جانب سے ٹکر مار رہا تھا اور ہر مرتبہ پانی کا زور بڑھنے پر انہیں خدشہ ہوتا کہ گھر بھی بہہ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا اور زندہ رہنے کی امید کے ساتھ بدترین صورت حال کے لیے بھی خود کو تیار کرلیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رشتہ داروں کو فون کرکے آخری بار بات کرنے کی کوشش کی، تاہم خراب ٹیلی فون سگنل کے باعث وہ ٹھیک طرح سے گفتگو نہیں کر سکیں۔لکشمی اپنے شوہر پراکاش، 11 سالہ بیٹی پردیشا، ساس بھکتا کماری اور ایک پڑوسی کے ساتھ گھر میں موجود تھیں۔ ان کا 7 سالہ بیٹا پریان سیلاب آنے سے تقریباً 15 منٹ قبل اسکول روانہ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کا اسکول نسبتاً محفوظ علاقے میں تھا اور وہ بھی محفوظ رہا۔

خاندان کے مطابق اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد لکشمی اور ان کے شوہر نے اپنی بیٹی اور والدہ کو گھر کے اندر نسبتاً محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا۔ پانی تیزی سے گھر میں داخل ہوتا گیا تو خاندان نے بالائی حصے میں پناہ لی اور مدد کے لیے چیخ و پکار شروع کردی۔

سیلابی ریلے نے اطراف کے کئی مکانات کو تباہ کردیا۔ ویڈیو میں بڑے بڑے ڈھانچوں اور گاڑیوں کو بھی پانی کے ساتھ بہتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ گھروں کا ملبہ، مٹی اور پتھر علاقے میں پھیل گئے۔بالآخر امدادی کارروائی کے دوران اس خاندان کو بحفاظت گھر سے نکال لیا گیا۔ خاندان کے افراد کے زندہ بچ جانے پر مقامی افراد نے بھی اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ ’’معجزاتی گھر‘‘ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔

دوسری جانب نیپال اور تبت کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ تقریباً 4,500 افراد تاحال لاپتا ہیں۔متاثرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ آسٹریلیا کے بھی متعدد شہری اس قدرتی آفت کے بعد لاپتا بتائے گئے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

نیپال میں تباہی کے اس منظر کے درمیان سبز رنگ کے گھر کا سلامت رہ جانا متاثرہ افراد کے لیے امید اور حیرت کی علامت بن گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق علاقے میں صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک ہے اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

More posts