Baaghi TV

سابق وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک انتقال کرگئے

گوجرانوالہ کے سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ کئی روز سے لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

چوہدری محمود بشیر ورک عام انتخابات 2024ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 77 (گوجرانوالہ-I) سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ مجموعی طور پر 5 مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ ایک مرتبہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بھی رہے۔

چوہدری محمود بشیر ورک کا جنازہ کل ان کے آبائی گاؤں موضع کمو ورکاں میں ادا کیا جائے گا۔

محمود بشیر ورک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر سیاستدان اور معروف وکیل تھے، جو گوجرانوالہ کے مختلف حلقوں سے 5 مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

وہ پہلی مرتبہ 1997ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 77 (گوجرانوالہ) سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حلقہ این اے 97 (گوجرانوالہ-III) سے کامیابی حاصل کرکے دوسری مرتبہ قومی اسمبلی میں جگہ بنائی۔

2013ء کے عام انتخابات میں بھی محمود بشیر ورک اسی حلقے این اے 97 سے بھاری اکثریت کے ساتھ تیسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی دور حکومت میں وہ جنوری 2018ء سے مئی 2018ء تک پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف کے منصب پر بھی فائز رہے۔

2018ء کے عام انتخابات میں نئی حلقہ بندیوں کے باعث حلقوں کے علاقوں میں تبدیلی کے باوجود محمود بشیر ورک اپنے آبائی علاقوں پر مشتمل حلقہ این اے 80 (گوجرانوالہ-II) سے چوتھی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

2024ء کے عام انتخابات میں محمود بشیر ورک مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے حلقہ این اے 77 (گوجرانوالہ-I) سے میدان میں اترے اور ایک لاکھ 6 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے پانچویں مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

چوہدری محمود بشیر ورک کا تعلق گوجرانوالہ کے مضافاتی علاقے کے ایک معزز زمیندار گھرانے سے تھا۔ ان کا آبائی گاؤں گوجرانوالہ کی تحصیل نوکھر/کامونکی کے قریب واقع موضع کمو ورکاں، جسے قلعہ کمو ورکاں بھی کہا جاتا ہے، ہے جہاں ان کی خاندانی زمینیں اور حویلی موجود ہے۔ ان کا خاندان گوجرانوالہ شہر کے ڈی سی روڈ پر بھی مقیم رہا ہے۔

محمود بشیر ورک کے والد چوہدری بشیر احمد ورک علاقے کے معروف زمیندار اور مقبول سماجی شخصیت تھے۔ ان سے منسوب ایک تاریخی واقعہ 1947ء کے فسادات کے دوران انسانیت اور رواداری کی ایک مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت فسادات کے دوران چوہدری بشیر احمد ورک نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے گاؤں اور گردونواح کے سکھ اور ہندو خاندانوں، جن میں کیپٹن اجیت سنگھ بوٹالیا کا خاندان بھی شامل تھا، کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر ان خاندانوں کی جانوں کی حفاظت کی تھی۔

اس انسانی ہمدردی کے باعث بعد ازاں سکھ برادری کے افراد ان کے والدین کی قبروں پر شکریہ ادا کرنے کے لیے بھی آئے تھے۔

More posts