بلدیاتی انتخابات کا شور دوبارہ سنائی دے رہا ہے۔ یونین کونسلیں بنیں گی، کونسلر منتخب ہوں گے، ناظم اور نائب ناظم آئیں گے اور ایک بار پھر یہ دعویٰ ہوگا کہ اب اختیار عوام کے قریب آگیا ہے۔ بظاہر یہ جمہوریت کی خوبصورت تصویر ہے، لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں سیاست ابھی تک برادری، دھڑے اور ذاتی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکی، وہاں اختیار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بننے والے یونین کونسل کے دفاتر محلے کی نئی طاقت، دھڑے بندی اور بدمعاشی کے مراکز بن جائیں۔
ہمارے ہاں الیکشن اکثر نظریے سے زیادہ برادری کا الیکشن بن جاتا ہے۔ جٹ برادری کس کے ساتھ ہے، گجر برادری کس کے ساتھ ہے، راجپوت کس امیدوار کے پیچھے کھڑے ہیں، آرائیں کس کو ووٹ دے رہے ہیں، کون سا محلہ کس دھڑے میں ہے۔ یوں ایک معمولی سا مقامی الیکشن بھی عزت، انا اور طاقت کی جنگ بن جاتا ہے۔ امیدوار جیتنے کے بعد صرف منتخب نمائندہ نہیں رہتا، وہ اپنے ساتھ ایک پورا حلقہ، ایک گروہ اور ایک سماجی طاقت لے کر یونین کونسل کے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ اصل خطرہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
ناظم یا کونسلر کا دفتر عوام کے مسائل سننے کی جگہ ہونا چاہیے، لیکن اگر وہ دفتر محلے کے نوجوانوں اور کالج کے لڑکوں کی روزانہ کی بیٹھک بن جائے تو وہاں سیاست کے ساتھ ایک دوسرا کلچر بھی جنم لیتا ہے۔ کالج سے بنک کرکے لڑکے ناظم صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہیں، محلے کے نوجوان وہاں آتے جاتے ہیں، گھنٹوں گپیں لگتی ہیں، سگریٹ کے دھوئیں میں محفلیں سجتی ہیں اور آہستہ آہستہ ایک ایسا حلقہ بن جاتا ہے جسے لگتا ہے کہ ناظم صاحب کے دفتر میں بیٹھنا خود ایک طاقت ہے۔ یہ نوجوان ناظم نہیں بن رہے، لیکن ناظم کے دفتر سے طاقت کا ذائقہ ضرور سیکھ رہے ہیں۔
پھر کسی گلی میں دو لڑکوں کا جھگڑا ہو تو دفتر میں بیٹھے نوجوان فریق بن جاتے ہیں۔ کسی دکاندار سے تلخ کلامی ہو تو برادری درمیان میں آجاتی ہے۔ کسی مخالف گروپ نے آواز اٹھائی تو اسے دبانے کے لیے نوجوان اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ آج گالی اور دھمکی ہے، کل ہاتھا پائی، پرسوں اسلحہ اور پھر یہی معمولی سی مقامی سیاست پورے علاقے میں دشمنیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بدمعاشی ہمیشہ اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایک ماحول بنتا ہے۔ پہلے طاقتور آدمی کے گرد نوجوان جمع ہوتے ہیں، پھر اس کے دفتر میں بیٹھنا فخر سمجھا جاتا ہے، پھر مخالف کو دھمکانا معمول بن جاتا ہے، پھر پولیس اور سرکاری اہلکاروں سے تعلق کو اپنی طاقت سمجھا جاتا ہے اور آخرکار پورا محلہ جانتا ہے کہ فلاں ناظم کے دفتر میں بیٹھنے والے لڑکوں سے الجھنا اچھا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بلدیاتی نظام کی خوبصورتی ایک خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔
ہم نے تعلیمی اداروں میں بھی طاقت کے ایسے کلچر کے اثرات دیکھے ہیں۔ لاہور کے ایم اے او کالج اور دیال سنگھ کالج سمیت کئی اداروں کی تاریخ میں طلبہ گروہ بندی اور لڑائی جھگڑے کے ایسے واقعات رہے ہیں جنہوں نے یہ سوال پیدا کیا کہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت اگر دلیل اور خدمت کے بجائے طاقت اور گروہ بندی سے ہو تو اس کے اثرات کالج کی چار دیواری سے باہر بھی جاتے ہیں۔ مسئلہ کسی ایک کالج یا کسی ایک نسل کا نہیں؛ مسئلہ اس ذہنیت کا ہے جو نوجوان کو یہ سکھاتی ہے کہ تعداد، گروہ اور تعلقات قانون سے بڑی طاقت ہیں۔
اگر یہی ذہنیت یونین کونسل کے دفاتر تک پہنچ گئی تو نقصان کہیں زیادہ ہوگا، کیونکہ وہاں صرف چند طالب علم نہیں بلکہ عوامی وسائل، سرکاری اختیار اور مقامی سیاست موجود ہوگی۔ اور پھر سوال صرف بدمعاشی کا نہیں رہے گا، عوام کے پیسے کا بھی ہوگا۔ دفتر عوام کے لیے ہے یا دوستوں کی بیٹھک کے لیے؟ سرکاری گاڑی عوامی کام کے لیے ہے یا ذاتی محفلوں کے لیے؟ ترقیاتی رقم گلی بنانے کے لیے ہے یا سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے؟ اگر عوام کا پیسہ ان نمائندوں کی محفلوں، عیاشیوں اور ذاتی اثر و رسوخ بڑھانے پر خرچ ہونے لگا تو بلدیاتی نظام عوام کو اختیار دینے کے بجائے چند لوگوں کو عوام پر اختیار دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔
اس لیے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون جیت رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جیتنے کے بعد اس کے دفتر میں کون بیٹھے گا۔کیونکہ ناظم ایک شخص ہوتا ہے، مگر اس کے دفتر کے گرد جمع ہونے والے بیس، پچاس یا سو نوجوان ایک پورا مقامی کلچر بنا سکتے ہیں۔
ہمیں ایسے یونین کونسل دفاتر چاہییں جہاں صبح سے شام تک عوام اپنے مسائل لے کر آئیں، نہ کہ ایسے اڈے جہاں نوجوان کالج سے بنک کرکے بیٹھیں، سگریٹ کے دھوئیں میں محفلیں سجیں، برادری کے فیصلے ہوں، مخالفین کو دھمکانے کی منصوبہ بندی ہو اور سرکاری وسائل ذاتی شان و شوکت پر خرچ ہوں۔
اختیار عوام تک ضرور پہنچنا چاہیے، مگر اختیار کے ساتھ قانون بھی پہنچنا چاہیے، احتساب بھی اور ذمہ داری بھی۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو محلے تک پہنچانے کے نام پر محلے کی بدمعاشی کو سرکاری دفتر دے بیٹھیں گے۔
