کراچی کی کاروباری شخصیت اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جائے وقوع سے مزید شواہد بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی میں مزید 2 اراکین کو شامل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد کمیٹی کے اراکین کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ نئے اراکین میں ایس ایچ او شاہ لطیف تھانہ اور ایک ڈی ایس پی شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تفتیشی کمیٹی نے میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ این سی سی آئی اے سے واپس لے لی ہے، جنہیں مزید فرانزک تجزیے کے لیے لاہور فرانزک لیبارٹری بھیجا جائے گا۔ میر رضا کے اہل خانہ نے این سی سی آئی اے سے فرانزک کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب کراچی کی عدالت نے مقتول نوجوان تاجر کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کردی ہے۔
میر رضا علی خان 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے۔ وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق میر رضا کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی جبکہ ان کے سینے میں گولی لگی ہوئی تھی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاش ملنے سے ایک روز قبل میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیئے گئے تھے۔مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز پر انتہائی خوش تھے۔
