پاکستان کے لیجنڈ اداکار مرحوم سلطان راہی کا 88واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔
سلطان راہی 24 جون 1938ء کو بھارت کے شہر سہارنپور میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی،انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1959ء میں فلم "باغی” سے کیا، سلطان راہی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز چھوٹے کرداروں سے کیا، لیکن اپنی محنت، منفرد اداکاری اور طاقتور مکالمہ ادائیگی سے وہ پنجابی فلموں کے سب سے بڑے ستارے بن گئے-
تقریباً چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں سلطان راہی نے سیکڑوں فلموں میں اداکاری کی ، ان کا نام بطور سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے اداکار کے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل رہا ہے انہوں نے پنجابی سنیما کو ایک نئی شناخت دی ان کے ڈائیلاگز، انداز اور کردار آج بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،فلم ’وحشی جٹ‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، جبکہ ’مولا جٹ‘ نے سلطان راہی کو برصغیر کے مقبول ترین ایکشن ہیروز میں شامل کردیا،اور انہیں "شیرِ پنجاب” کا خطاب ملا،سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی پاکستانی فلمی تاریخ کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے، جنہوں نے متعدد یادگار فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے،یہ جوڑی آج بھی فلمی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے-
9 جنوری 1996 کو گوجرانوالہ کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں اردو اور پنجابی فلموں کے لیجنڈ اداکار سلطان راہی دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور وہ پاکستان کے یادگار ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
