ریاض:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 18 مارچ 2026 کو ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں شرکت کی، جہاں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ اجلاس سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرا ئے خارجہ نے بھی شرکت کی، اجلاس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا۔
انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جاری تنازعات کے فوری خاتمے، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا، وزیر خارجہ نے خطے میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے شہریوں، توانائی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ ہیں، لہٰذا ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے، وزیر خارجہ نے شرکا کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پا کستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
اجلاس کے اختتام پر عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا،دورے کے دوران وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی اور حمایت کا پیغام بھی پہنچایا –
وزارتی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا انہوں نے مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک چہار فریقی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں مشترکہ علاقائی چیلنجز پر غور کیا گیا۔
