جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنا اپنے دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے دھرنے کو کم از کم 8 روز تک بلا تعطل جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اس سلسلے میں دھرنے کے شرکاء کے لیے کھانے پینے کے وسیع انتظامات کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادویات کا اسٹاک بھی مکمل کر لیا گیا ہے، دھرنے کی وسعت کو برقرار رکھنے کے لیے پورے پنجاب سے کارکنان کی مرحلہ وار شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے اس مقصود کے لیے صوبہ پنجاب کے عہدیداران کو دن کے حساب سے باقاعدہ ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ دھرنے میں ہر روز نئی نرسری اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ صرف لاہور، بلکہ کراچی اور پشاور میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا یہ دھرنا کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عام عوام، وکلا، ڈاکٹرز اور تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے کارکنوں کی مشترکہ آواز ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے انکشاف کیا کہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں آئی پی پیز (IPPs) کا آغاز ہوا، جس کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے یکے بعد دیگرے ایسے معاہدے کیے جنہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، آئی پی پیز کے پلانٹس کی صلاحیت میں شدید دھاندلی کی گئی100 میگاواٹ کے پلانٹ کو کاغذی کارروائی میں 200 میگاواٹ دکھایا گیا حتیٰ کہ گنے کے بھوسے (Bagasse) سے چلنے والے پاور پلانٹس میں بھی کھلم کھلا دو نمبر ی اور کرپشن کی گئی، ان تمام غلط پالیسیوں اور آئی پی پیز کی ‘کیپسٹی پیمنٹ’ (Capacity Payment) کا سارا بوجھ اب غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پہلے ہی شدید پریشان تھے، جبکہ اب زائد یونٹ استعمال کرنے والے مڈل کلاس اور عام شہریوں کی کمر توڑ دی گئی ہے بین الاقوامی سطح پر جنگ کے بہانے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور حکومت ہر بات کا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے، کیونکہ یہ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ’ ایف بی آر (FBR) میں سالانہ 1,300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، مگر نظام کی خرابی دور کرنے کے بجائے عوام کو کچلا جاتا ہے ملک کے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں نے مل کر پورے سال میں صرف 12 ارب روپے کا ٹیکس دیا، جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کی جیب سے 700 ارب روپے کا انکم ٹیکس نچوڑا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ پٹرولیم پروڈکٹس پر لیوی، بھتہ ٹیکس اور موٹر سائیکل سواروں سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں پر عائد غیر قانونی ٹیکس عوام کو بالکل منظور نہیں ہیں جماعت اسلامی حق و انصاف کی اس جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گی اور دھرنے اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہیں گے۔
