Baaghi TV

گیس، بجلی اور پٹرول،تحریر:خالد شہزاد

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ عوام کو ہمیشہ پُرکشش نعروں، سبز باغوں اور جذباتی وعدوں کے ذریعے بہلایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخ ساز نعرے "روٹی، کپڑا اور مکان” نے 1970ء کے عشرے میں عوام کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی تھی۔ غریب طبقے نے سوچا تھا کہ شاید اب آٹے کا کنستر خالی نہیں رہے گا، سر پر اپنی چھت ہوگی اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا میسر ہوگا۔ لیکن دہائیاں گزر جانے کے بعد، بھٹو تو زندہ رہا مگر غریب کی آس ٹوٹ گئی۔بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں توانائی کے سنگین بحران کے حل کے لیے معاہدے تو کیے گئے، لیکن بدعنوانی اور دیرپا پالیسیوں کے فقدان نے بجلی کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا۔ آصف علی زرداری کے "پاکستان کھپے” کا نعرہ اور عمران خان کے "ریاستِ مدینہ” کا خواب بھی عام پاکستانی کی حالتِ زار بدلنے میں ناکام رہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جو حکومتیں خود کو معاشیات کی ماہر گردانتی ہیں، وہ بھی بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سیکنڈز کے حساب سے اضافہ کر کے غریب اور متوسط طبقے سے زندہ رہنے کی آخری امید بھی چھین رہی ہیں۔

یہ مانا کہ عالمی حالات و واقعات اور جیو پولیٹیکل دباؤ نے پاکستان کا موجودہ معاشی اور توانائی کا بحران محض داخلی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ عالمی حالات و واقعات نے بھی اس میں پٹرول کا کام کیا ہے، عالمی سپلائی چین کا بحران نے روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ تو پاکستان نے توانائی کے لیے غیر ملکی خام مال پر انحصار اپنی بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی ضرورت کے لیے شدید حد تک در آمدی تیل و گیس پر انحصار کرتا رہا،عالمی منڈی میں معمولی تحرک بھی مقامی سطح پر پٹرول، گیس اور بجلی کے بم پھوڑنے کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات اور کڑی شرائط کی وجہ سے پاکستان کا معاشی ڈھانچہ دہائیوں سے ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) کے سہارے پر چل رہا ہے۔ لیکن یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے جب قرض دیتے ہیں، تو ساتھ سخت ترین شرائط بھی عاید کرتے ہیں: آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر دی جانے والی تمام سبسڈی ختم کی جائے۔ توانائی کے شعبے پر نافذ لیوی اور سیلز ٹیکس میں تسلسل سے اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کر سکے اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں۔

سرکولر ڈیٹ (گردشی قرضہ): توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کے حساب کتاب سے باہر ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی ادارے حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ قرضہ عوام کی جیبوں سے فی یونٹ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر وصول کرے، حکومت گردشی قرضہ جات واپس کرنے کے لیے پٹرول پر لیوی کی مد میں ناجائز بوجھ عام عوام پر ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت اور تکنیکی ماہرین کا دعویٰ تھا کہ وہ سخت فیصلے کر کے معیشت کو پٹری پر لائیں گے، مگر ان کی اصلاحات زبانی جمع خرچ اور عوام دشمن ثابت ہوئی ہیں۔

ظالمانہ کیپسیٹی پیمنٹس (Capacity Payments): آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے وہ معاہدے جن کے تحت بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، اربوں روپے کی اداؤگیاں ڈالرز میں کی جاتی ہیں، ان کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔

گیس اور بجلی کی ریکارڈ قیمتیں اصلاحات کے نام پر ٹیرف میں بار بار اضافہ کر کے عام شہری، صنعتکار اور تاجر طبقے کی کمر توڑ دی گئی ہے، جس سے پیداوری لاگت بڑھ گئی ہے اور معاشی پہیہ جام ہو رہا ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھنے سے بنیادی اشیائے خورونوش آٹے، دال اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

"روٹی، کپڑا اور مکان” سے شروع ہونے والا سفر آج اس نقطے پر پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی عوام کے لیے بجلی، گیس اور پٹرول کا حصول بھی ایک خواب بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں لاتا، در آمدی ایندھن کے بجائے مقامی و تجدید پذیر وسائل (شمسی اور پن بجلی) کی طرف منتقل نہیں ہوتا، اور بین الاقوامی اداروں کی عوام دشمن شرائط پر اندھا دھند عمل درآمد بند نہیں کرتا، تب تک کوئی بھی سیاسی نعرہ غریب پاکستانی کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔

More posts