Baaghi TV

دل کا بوجھ اتار دیجیے،تحریر: زینب جہانزیب

کبھی کبھی ہم اپنے دل میں اتنا کچھ جمع کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود بھی یاد نہیں رہتا کہ ہم آخر کس کس سے ناراض ہیں۔ کسی کی ایک بات، کسی کا بدلتا ہوا رویہ، کسی کی بے رخی، کسی کا دھوکا… کچھ باتیں وقت کے ساتھ بھلا دی جاتی ہیں، مگر کچھ دل کے کسی کونے میں ویسے ہی پڑی رہتی ہیں۔ ہم زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، ہنستے ہیں، اپنی مصروفیات میں لگے رہتے ہیں، مگر اندر کہیں وہ ایک چھوٹی سی رنجش زندہ رہتی ہے۔

اور شاید ہم یہ نہیں سمجھتے کہ دل میں کسی کے لیے ناراضی رکھنا بھی ایک بوجھ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے سزا دے دی، اس سے بات نہیں کی، اسے معاف نہیں کیا… مگر حقیقت میں اس سب کا بوجھ ہم خود اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ جس شخص سے ہم ناراض ہوتے ہیں، ضروری نہیں وہ ہر وقت ہماری ناراضی کے بارے میں سوچ رہا ہو، مگر ہم اسے اپنے ساتھ ہر جگہ لیے پھرتے ہیں۔

کبھی اپنے دل سے پوچھ کر دیکھیں، آخر کتنی پرانی باتیں ہیں جنہیں ہم آج بھی اپنے اندر زندہ رکھے ہوئے ہیں؟ کتنے لوگوں کے نام ایسے ہیں جنہیں سوچتے ہی دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے؟ اور کتنے ایسے ہیں جنہیں ہم نے زبان سے تو معاف کر دیا، مگر دل ابھی تک ان کے خلاف گواہی دے رہا ہے؟
شاید دل صاف کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ہم ایک دن خاموشی سے بیٹھیں اور اپنے اندر دیکھیں۔ جو گزر گیا، اسے ہر روز دوبارہ جینے کی کیا ضرورت ہے؟ جس نے غلطی کی، وہ اپنی جگہ جواب دہ ہے، مگر ہم اپنی روح کو اس غلطی کی سزا کب تک دیتے رہیں گے؟
معاف کرنا ہمیشہ اس لیے نہیں ہوتا کہ سامنے والا صحیح تھا۔ کبھی کبھی ہم اس لیے معاف کرتے ہیں کیونکہ ہم مزید اس درد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ ہم اپنے دل کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ پرانی تکلیف سے باہر نکل سکے۔
لیکن ایک بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

ہم اکثر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ رحیم ہے، وہ ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔ اور بے شک اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن جب معاملہ بندوں کا ہو تو ہمیں ذرا رک کر سوچنا چاہیے۔ کسی کا حق مارا ہو، کسی کا دل دکھایا ہو، کسی کی عزت کو نقصان پہنچایا ہو، کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو… تو صرف یہ کہہ دینا کہ "اللہ معاف کر دے گا” شاید کافی نہیں۔
کیونکہ اللہ کے حقوق کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، مگر بندوں کے حقوق میں ایک انسان بھی شامل ہے۔
ہم کبھی کبھی بہت آسانی سے کسی کو تکلیف دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے بات چھوٹی تھی، اتنی بھی بڑی نہیں تھی۔ مگر جس دل پر گزرتی ہے، شاید اس کے لیے وہ بات اتنی چھوٹی نہ ہو۔ ہم تو ایک جملہ کہہ کر بھول جاتے ہیں، لیکن سامنے والا شاید وہی جملہ کئی راتوں تک اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔
اس لیے کبھی اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔
کیا کبھی ہماری وجہ سے کسی نے اکیلے میں آنسو بہائے؟ کیا کبھی کسی کا حق ہمارے پاس رہ گیا؟ کیا کبھی ہم نے کسی کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا؟ کیا کبھی اپنی انا کی وجہ سے کسی ایسے انسان سے معافی نہیں مانگی جسے واقعی ہماری معافی کی ضرورت تھی؟
یہ سوال آسان نہیں ہیں، لیکن شاید ضروری ہیں۔

ہمیں نہیں معلوم ہماری زندگی میں کون سی ملاقات آخری ملاقات ہے۔ کس سے ہوئی آخری گفتگو واقعی آخری تھی۔ کبھی کبھی انسان سوچتا رہتا ہے کہ ابھی وقت ہے، بعد میں بات کر لیں گے، بعد میں معافی مانگ لیں گے، بعد میں سب ٹھیک کر لیں گے… اور پھر وہ "بعد میں” کبھی نہیں آتا۔
زندگی کا سب سے بڑا دکھ شاید یہی ہے کہ کچھ باتیں ہم وقت پر کہہ نہیں پاتے۔ کچھ معافیاں ہم وقت پر مانگ نہیں پاتے اور کچھ لوگوں کو وقت پر معاف نہیں کر پاتے۔
اس لیے اگر کسی سے ناراضی ہے اور دل کہتا ہے کہ اسے چھوڑ دینا چاہیے، تو چھوڑ دیجیے۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو اپنی انا کو تھوڑا سا پیچھے کر دیجیے۔ اگر کسی کا حق آپ کے پاس ہے تو واپس کر دیجیے۔ ہر چیز کو کل پر مت ڈالیے، کیونکہ ہمیں کل کا وعدہ نہیں ملا۔
اور ہاں، اگر کسی نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اسے معاف کرنے میں بھی جلدی نہ ہو تو کوئی بات نہیں۔ انسان ہیں، دل ہے، وقت لگتا ہے۔ مگر کم از کم اس نفرت کو اپنی پوری زندگی کا حصہ نہ بنائیے۔ کسی کے کیے ہوئے ظلم کو اپنی روح میں ہمیشہ کے لیے گھر نہ بنانے دیجیے۔
آخر میں ہم سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ وہاں شاید یہ اہم نہ ہو کہ دنیا میں ہم کتنے صحیح ثابت ہوئے، کتنے لوگوں کو خاموش کرایا، کتنی بحثیں جیتیں۔ شاید اصل سوال یہ ہو کہ ہم نے کتنے دل بچائے اور کتنے دل توڑے؟
اس لیے آج ذرا اپنے دل کو دیکھیں۔ اگر اس میں کسی کے لیے شکوہ ہے تو اسے اللہ کے حوالے کر دیں۔ اگر کسی کا حق ہے تو لوٹا دیں۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیں۔
اور اگر کسی کو معاف کرنا ہے تو کر دیں۔
دل بہت چھوٹی سی جگہ ہے، اسے لوگوں کی نفرتوں اور پرانے حسابوں سے مت بھریں۔
کیا خبر، جس دن ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہو، اس دن ہمارے پاس دنیا کے سارے جواب ہوں… مگر دل کا سکون نہ ہو۔
اس سے پہلے کہ زندگی ہمیں مہلت دینا چھوڑ دے، اپنے دل کا بوجھ اتار دیجیے۔

More posts