دادا جان پریشانی سے اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے۔ ان کے چہرے کی جھریاں اور پریشان نگاہیں اس بات کا پتہ دے رہی تھیں کہ ان کے ذہن میں بہت بڑا خدشہ پنپ رہا ہے۔ وہ بچوں کے بے باک اور لاپروا رویے سے شدید پریشان تھے اور سوچ رہے تھے کہ آخر کس طرح ان معصوموں کے دل و دماغ میں پانی جیسی نایاب اور عظیم نعمت کی اہمیت کو اتارا جائے۔
کچھ ہی دیر میں کمرے کا دروازہ ٹھاہ کی زوردار آواز سے کھلا اور تین بھاگتے، دوڑتے بچے اندر داخل ہوئے۔
السلام علیکم دادا جان! جلدی سے کہانی سنانا شروع کریں!
بچوں نے پھولی سانسوں کے ساتھ السلام علیکم کہا اور ساتھ ہی اپنی دیرینہ فرمائش بھی پیش کر دی۔
دادا جان نے بچوں کی طرف غور سے دیکھا، ان کے معصوم اور نادان چہروں کو تکا اور پھر کچھ سوچ کر ان کے بوڑھے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے بچوں کو اپنے قریب بٹھایا اور لمبا سانس لے کر کہانی کا آغاز کیا۔
پیارے بچو! یہ کہانی کسی دور دراز دیس کی نہیں، بلکہ ہمارے ہی جیسے ایک گھرانے کی ہے… دادا جان نے دھیمی اور پراسرار آواز میں بولنا شروع کیا۔
صبح ہوتے ہی اس نے روز کی طرح گاڑی دھونے اور نہانے کے نام پر پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔ پائپ سے تیز رفتار پانی بہہ رہا تھا اور گلی میں کیچڑ اور پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بن چکے تھے۔
احمد! کتنی بار تم سے کہا ہے کہ پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا کرو۔ اگر ہم سب اسی طرح بے دریغ پانی بہاتے رہے تو بہت جلد ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے۔
دادا جان نے ہمیشہ کی طرح آج پھر احمد کو سمجھانے کی کوشش کی، ان کے لہجے میں فکر اور التجا تھی۔
اوہو دادا جان! جب وہ وقت آئے گا تب کی تب دیکھی جائے گی۔ ابھی تو آپ مجھے یوں ڈرانا چھوڑ دیں!” احمد نے پائپ کا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے دادا جان کی بات کو ہوا میں اڑا دیا۔
احمد کا لاپروا جواب سن کر دادا جان نے تاسف سے سر ہلایا، ان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی اور وہ زیرِ لب استغفار کا ورد کرنے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نعمتوں کی ناشکری کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے۔
سال گزرتے گئے اور احمد کی لاپرواہی میں کوئی کمی نہ آئی۔ لیکن قدرت کا اپنا ایک نظام ہے۔ چند ہی سالوں میں اس علاقے کو بدترین خشک سالی نے گھیر لیا۔ بارشیں تھم گئیں، ندی نالے سوکھ گئے اور زمین کے نیچے سے پانی کی سطح مسلسل نیچے گرتی چلی گئی۔ جو کنویں اور بورنگ کل تک شاداب تھے، وہ اب گرد و غبار کے سوکھے گڑھے بن چکے تھے۔
ایک دن ایسا بھی آیا کہ پینے کے پانی کا ایک ایک قطرہ سونے کے بھاؤ ملنے لگا۔
پانی… پانی… دادا جان کی نحیف و نزار آواز نے یوسف کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا اور وہ ماضی کے حسین اور شاداب دن یاد کرتا ہوا اچانک حال کی خوفناک حقیقت میں آ کھڑا ہوا۔
یوسف بھاگ کر کچن کی طرف گیا۔ کچن کے ایک ایک برتن کو ٹٹولتے ہوئے وہ صرف دو گھونٹ پانی کی تلاش میں تھا، لیکن ہر مٹکا، ہر جگ اور ہر بوتل خالی پڑی تھی۔ نلکے سے نکلنے والی خشک ہوا اس کے بے بس وجود کا مذاق اڑا رہی تھی۔
پانی نہ پا کر وہ الٹے قدموں دادا جان کے پاس واپس لوٹا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر اونچا اونچا رونے لگا۔ وہ تڑپ رہا تھا کہ کاش اس کے پاس صرف دو بوند پانی ہوتا جو وہ اپنے بسترِ مرگ پر پڑے دادا جان کے خشک حلق میں ٹپکا سکتا۔ لیکن حسرت اور پچھتاوے کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔
پھر کیا ہوا دادا جان؟
بچوں نے بے قراری اور خوف سے سوال کیا۔ ان کے ننھے چہروں پر کہانی کی دہشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔
دادا جان نے ایک گہری آہ بھری اور بولے:
مسلسل قحط سالی کی وجہ سے گاؤں میں بہت سی اموات ہوئیں، جن میں ایک وہ بوڑھا دادا بھی شامل تھا جو پیاس کی شدت سے دم توڑ گیا… اور وہ احمد کوئی اور نہیں، بلکہ ماضی کا وہی لاپروا لڑکا تھا جس کی ناشکری نے اپنے ہی گھر کی خوشیاں نگل لیں۔
کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تینوں بچے سہمے ہوئے دادا جان کو دیکھ رہے تھے۔
دادا جان نے بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور درد بھرے لہجے میں کہا:
پیارے بچو! یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ صرف زندگی گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ خود زندگی ہے۔ اور قدر نہ کرنے پر اکثر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ جب تک پانی بہتا رہتا ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جس دن یہ رک جائے گا، اس دن انسان اپنا سب کچھ دے کر بھی پانی کا ایک قطرہ خرید نہیں سکے گا۔
کہانی ختم ہو چکی تھی لیکن بچوں کے دائرہ فکر میں انقلاب آ چکا تھا۔ وہ تینوں خاموشی سے اٹھے۔ سب سے چھوٹے بچے نے فوراً جا کر واش روم کا وہ نلکا مضبوطی سے بند کیا جس سے ہلکی سی بوند ٹپک رہی تھی۔
بچوں نے دادا جان کے گرد اپنے معصوم ہاتھ لپیٹ لیے اور عہد کیا:
دادا جان! ہم آج کے بعد کبھی پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔ ہم اس نعمت کی حفاظت کریں گے۔ دادا جان کے چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ پھیل گئی۔ ان کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو چمک رہے تھے، کیونکہ ان کی بات بچوں کے دلوں میں اتر چکی تھی اور آفت سے بچنے کا پہلا قدم اٹھایا جا چکا تھا۔
