Baaghi TV

غریب مریض، مہنگا علاج،تحریر: ایس اے شازِم

غریب مریض اور مہنگا علاج سے مراد ایک ایسی صورتِ حال ہے کہ جس میں ایک غریب اور مالی طور پر کمزور شخص بیماری میں مبتلا ہو مگر علاج، ادویات، ٹیسٹ اور ہسپتال کے اخراجات اس کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہوں۔ ایسے مریض کے لیے بیماری سے لڑنے کے ساتھ ساتھ علاج کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔

یہ دراصل صحت کے شعبے میں معاشی ناہمواری اور انسانی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پیسہ نہ ہونے کے باعث اکثریت غریب طبقہ بروقت اور مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ مفلس لوگ کبھی کسی مالدار کی طرف مدد بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، تو کبھی رب سے التجا کرتے ہیں۔ کبھی کوئی سخی ان غریبوں کی سرپرستی کے لیے ہاتھ رکھتا ہے، تو کبھی کوئی ابلیس کے نقشِ قدم پر چلنے لگتا ہے۔ اور اسی کشمکش میں کئی لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

"غریب مریض اور مہنگے علاج کی اہم وجوہات”

غریب مریض کے لیے علاج مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ادویات، طبی ٹیسٹ اور علاج معالجے کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہے۔ کم آمدنی رکھنے والا شخص جب کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو ڈاکٹر کی فیس، مختلف ٹیسٹ، مہنگی دوائیں اور ہسپتال کے اخراجات اس کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں مناسب سہولتوں اور ضروری ادویات کی کمی بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہے، جس کے باعث غریب مریض بعض اوقات نجی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ نجی علاج کے اخراجات اس کی محدود آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کی سہولتوں کی غیر مساوی تقسیم، مہنگے تشخیصی معائنے اور طویل عرصے تک جاری رہنے والا علاج بھی غریب خاندان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر جعلی ادویات مریض کو شفایاب ہونے کے بجائے مزید پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔
یوں غربت، مہنگی ادویات، علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات، سرکاری طبی سہولتوں کی کمی اور نجی علاج پر انحصار وہ اہم وجوہات ہیں، جو غریب مریض کے لیے بیماری کو مزید کٹھن بنا دیتی ہیں۔

اکثر جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ ادویات کے مہنگا ہونے میں ڈاکٹروں کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ اگر ڈاکٹر حضرات پیشنٹ کے ساتھ اپنے شیئر کی قربانی دے دیں تو پاکستان سے غربت ختم تو نہیں لیکن تھوڑی کمی آ سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے میری یہ چند کڑوے الفاظ میرے معزز ڈاکٹر حضرات پر گراں گزرے لیکن میں نے یہ اپنا چھوٹا سا تجربہ پیش کیا ہے۔
حل!!
بہترین حل یہی ہے کہ؛ ہمارے حکمران کو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ غریب مریض کے لیے مہنگا علاج محض ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب کوئی غریب شخص یا اس کے گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو بیماری کے ساتھ ساتھ علاج کے اخراجات کی فکر بھی اسے گھیر لیتی ہے۔ بعض اوقات معمولی بیماری بھی مہنگی ادویات، تشخیصی ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی فیس کے باعث ایک بڑے مالی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں کئی غریب خاندان اپنی ضروریاتِ زندگی میں کمی کرنے، قرض لینے یا اپنی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا حل ایسا ہونا چاہیے جو غریب مریض کو بروقت اور باعزت طریقے سے علاج کی سہولت فراہم کر سکے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ صحت کی بنیادی سہولتیں ہر شہری تک کم خرچ یا مفت پہنچائی جائیں۔ سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنایا جائے، وہاں ڈاکٹروں، طبی عملے، ضروری آلات اور ادویات کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جائے۔ غریب مریض کو علاج کے لیے ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر نہ لگانے پڑیں بلکہ اسے ایک ہی جگہ پر تشخیص، ادویات اور ضروری علاج کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ہر شے میسر ہو۔ سرکاری ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور مریضوں کے ساتھ بہتر رویے کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ غریب شخص خود کو بے سہارا محسوس نہ کرے۔
ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی غریب مریضوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ضروری ادویات کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کرے اور ایسی ادویات جو عام بیماریوں کے علاج کے لیے ضروری ہیں، انہیں مناسب قیمت پر دستیاب بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مستحق مریضوں کے لیے مالی امداد، علاج کی معاونت، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبوں کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جائے تاکہ حقیقی ضرورت مند افراد ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس کے علاوہ خیراتی اداروں، فلاحی تنظیموں اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسے مریض جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، ان کے لیے باقاعدہ امدادی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ معاشرے میں صاحبِ استطاعت افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مستحق مریضوں کی مدد کریں، کیونکہ کسی بیمار انسان کے علاج میں تعاون کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ایک انسانی ذمہ داری بھی ہے۔
اس مسئلے کا دیرپا حل صرف ایک مضبوط، مؤثر اور منصفانہ نظامِ صحت قائم کرنا ہے۔ ایسا نظام جس میں علاج کسی امیر کی آسائش اور غریب کی مجبوری نہ بنے، بلکہ ہر انسان کو اس کی ضرورت کے مطابق علاج کی سہولت حاصل ہو۔ ریاست، طبی اداروں، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور معاشرے کے ہر فرد کو مل کر اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اگر ہم ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس میں مریض کی جیب کے بجائے اس کی بیماری اور ضرورت کو اہمیت دی جائے تو بہت سے غریب خاندان علاج کے بھاری اخراجات کے بوجھ سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ایک فلاحی معاشرے کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہاں کمزور اور بے وسیلہ انسان بھی بیماری کے وقت خود کو تنہا اور بے سہارا محسوس نہ کرے۔

More posts