لاہور میں ٹریفک وارڈن کی مبینہ غفلت نوجوان کی جان لے گئی، شادمان مارکیٹ یوٹرن کے قریب ڈیوٹی پر مامور ٹریفک وارڈن بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار کو روکنے کے لیے اچانک بیچ سڑک میں آ گیا، اور تیر رفتار بائیک وارڈن سے ٹکرا کر گری۔
واقعہ 26 اگست کو پیش آیا تھا، جس میں ٹریفک اسسٹنٹ زخمی ہوا، جب کہ شہری اسپتال میں دم توڑ گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 30 سالہ زین اہلکار سے ٹکرانے کے بعد توازن برقرار نہ رکھ سکا تھا اور اس کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار کو روکنے پر ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق اور موٹر سائیکل سوار حادثے کا شکار ہوئے، دونوں زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اس واقعے کی فوٹیج خود سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے شیئر کی ہے، فوٹیج میں ٹریفک اہلکار کو نہایت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کے درمیان آ کر موٹر سائیکل روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد موٹر سائیکل سوار کا توازن بگڑا اور وہ گر گیا۔
ترجمان ٹریفک ہولیس کے مطابق ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے گھر روانہ کر دیا گیا تھا، تاہم زخمی موٹر سائیکل سوار زین پانچ روز سروسز اسپتال میں زیرِعلاج رہنے کے باوجود جاں بر نا ہو سکا نوجوان کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا تھا، جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا تھا۔
پولیس لاش سروسز اسپتال سے جنرل اسپتال لے گئی ہے، اور تاحال فیملی کے حوالے نہیں کی گئی ہے،اہلکار کی شدید غفلت کے باوجود ٹریفک پولیس نے واقعے کے نتائج سے اپنی جان چھڑانے کے لیے متاثرہ نوجوان کے خلاف پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا، جس پر متاثرہ نوجوان کی والدہ نے مقدمے کے اخراج کے لیے درخواست بھی دی لیکن بے سود رہی، والدہ نے کہا کہ حادثے کے ذمہ دار ٹریفک وارڈن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی دوسری طرف پولیس نے دکھایا کہ مرنے والا خود ہی قصور وار تھا-
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ محمد زین ایک نجی کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا اور واقعے سے صرف تین ہفتے قبل ہی اس کی منگنی ہوئی تھی۔ متوفی کی والدہ نے انصاف نہ ملنے اور لاش کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ ہم تحریری طور پر یہ بیان دیں کہ حادثے میں غلطی زین کی تھی، جس کے بعد ہی لاش ہمارے حوالے کی جائے گی، جبکہ میت اس وقت جنرل اسپتال میں موجود ہے۔
جاں بحق ہونے والے نوجوان زین کے بھائی ایاز نے تھانہ شادمان اور ڈی آئی جی آفس میں درخواست جمع کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹریفک اسسٹنٹ کی مبینہ حرکت کے باعث زین موٹر سائیکل سے گرا اور اسے سر کی مہلک چوٹ آئی۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار نے نوجوان کو دھکا دیا، جبکہ زین کے دفتری ساتھیوں اور راہگیروں نے بھی پوری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
اس کے علاوہ اہلِ خانہ نے زین کا سامان، رقم، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہےمتوفی کے ورثا نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ دار اہلکار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اہل خانہ نے ٹریفک اسسٹنٹ اور سینئر ٹریفک وارڈن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک اسسٹنٹ سڑک کے درمیان آیا اور چلتی موٹر سائیکل کو دھکا دیا، جس کے نتیجے میں زین گر کر شدید زخمی ہو گیا،دوسری طرف سی ٹی او نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی صدر زون کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
