Baaghi TV

بھروسے کا قاتل ،تحریر: عائش احمد

"آپ نے آج بھی باہر ہی کھانا کھا لیا، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کا انتظار کرتی ہوں اور آپ کے بغیر کھانا نہیں کھاتی۔”

حنین جب رات گئے گھر واپس آیا تو نمرہ اسے راہداری میں بےچینی سے ٹہلتی ہوئی نظر آئی۔

حنین نے سرسری سی نظر اس پر ڈالی اور بولا: "میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میرا انتظار مت کیا کرو۔ وقت پر کھانا کھا لیا کرو۔ آفس کا کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ واپسی میں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے۔”

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

نمرہ نے اپنی پلکوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش نہ کی۔ وہ خاموشی سے بہہ نکلے، رخساروں کو بھگوتے ہوئے گردن تک اتر آئے۔ پچھلے چند دنوں سے حنین کے بدلتے ہوئے رویے نے اس کے دل میں بےشمار سوال جگا دیے تھے۔ کبھی وہ خود کو سمجھا کر آنسو روک لیتی، اور کبھی یہ بے بس آنسو اس کے اختیار سے نکل کر اس کی خاموش اذیت کا اظہار بن جاتے۔
اس نے گہرا سانس لیا، صبر کا گھونٹ پیا اور خود کو سنبھالتے ہوئے حمام کا رخ کیا۔ واپس آئی تو حنین گہری نیند سو چکا تھا۔ یہ اب روز کا معمول بن چکا تھا۔

More posts