اسلام آباد: پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ وزارت مذہبی امور کے افسران اور دیگر حکام نے حجاج کی فلاح و بہبود کے لیے قائم حجاج ویلفیئر فنڈ سے سرینا ہوٹل میں کھانے اور دیگر اخراجات کیے۔
اجلاس کے دوران حجاج ویلفیئر فنڈ سے تحائف اور انٹرٹینمنٹ پر ہونے والے خلافِ ضابطہ اخراجات سے متعلق آڈٹ اعتراض زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سرینا ہوٹل میں ایک فنکشن منعقد کیا گیا تھا، جس کے اخراجات حجاج ویلفیئر فنڈ سے ادا کیے گئے۔سیکریٹری وزارت مذہبی امور نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے وزارت خزانہ سے درخواست کی تھی کہ مذکورہ اخراجات کو ریگولرائز کردیا جائے، تاہم وزارت خزانہ نے اس درخواست سے معذرت کرلی تھی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حجاج ویلفیئر فنڈ سے کھانے میں شریک افراد کو ایوارڈز بھی دیے گئے، جنہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
وزارت خزانہ کے حکام نے واضح کیا کہ وزارت مذہبی امور کو اس معاملے پر دو مرتبہ اعتراض سے آگاہ کیا گیا تھا، کیونکہ مذکورہ اخراجات قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھے۔آڈٹ حکام کے مطابق اس معاملے سے متعلق 11 لاکھ روپے کا آڈٹ پیرا قائم کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے کنوینر نے استفسار کیا کہ کیا یہ اخراجات پنک بک کے بجٹ سے کیے گئے تھے؟آڈٹ حکام نے جواب دیا کہ یہ سرینا ہوٹل میں منعقدہ ڈنر کے اخراجات تھے۔بعد ازاں کمیٹی نے آئندہ قواعد و ضوابط کی پابندی اور احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔
کمیٹی کی جانب سے آڈٹ اعتراض نمٹائے جانے پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر معاملہ آخرکار نمٹانا ہی تھا تو اس پر اتنی تفصیلی وضاحت کیوں طلب کی گئی اور قواعد کی خلاف ورزی کے باوجود اخراجات کو کس بنیاد پر قابلِ قبول سمجھا گیا؟
