ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے شوہر کو خلع کے کاغذات بھجوائے تھے، جس کے بعد حارث کھوکھر نے ڈاکٹر نبیحہ کو طلاق دے دی
مبینہ طلاق نامے کے مطابق حارث حامد کھوکھر نے اپنی اہلیہ نبیحہ علی خان کو پہلی طلاق دے دی ہے۔دستاویز کے مطابق فریقین کا نکاح 7 نومبر 2025 کو ہوا تھا جبکہ حق مہر ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا، جو نکاح کے وقت ادا کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔طلاق نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد دونوں کچھ عرصہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے رہے، تاہم بعد ازاں باہمی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ دستاویز میں درج ہے کہ حالات بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود اختلافات ختم نہ ہوسکے، جس کے باعث شوہر نے "پورے ہوش و حواس” میں اپنی اہلیہ کو طلاقِ اول دینے کا اعلان کیا۔
دستاویز کے مطابق طلاق دینے والے نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ عدت کی مدت مکمل ہونے کے بعد خاتون شرعی تقاضوں کے مطابق نکاحِ ثانی کرنے کی مجاز ہوں گی۔ مزید یہ بھی درج ہے کہ فریقین کے درمیان کسی قسم کا مالی لین دین یا دیگر دعویٰ باقی نہیں ہے۔مبینہ طلاق نامے پر 20 جولائی 2026 کی تاریخ درج ہے اور اس کے ساتھ پنجاب حکومت کا ای اسٹامپ بھی منسلک ہے، جس کی مالیت ایک ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔
قبل ازیں ڈاکٹر نبیحہ علی نے فیملی کورٹ میں شوہر حارث کھوکھر کے خلاف خلع کا دعویٰ دائر کر دیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوہر تشدد کرتا، گالیاں دیتا اور غیر مناسب رویہ اختیار کرتا ہے، حتیٰ کہ جانوروں جیسا سلوک کرتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق شوہر اچھے کردار کا مالک نہیں، اس لیے اس کے ساتھ مزید ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ خلع کی ڈگری جاری کی جائے۔

