کبھی کبھی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ صرف محسوس کی جاتی ہیں۔ حجاب بھی میرے لیے ایسی ہی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں جو سر پر اوڑھ لیا جائے بلکہ یہ ایک احساس ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک پہچان ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے محبت کا ایک خاموش اظہار ہے۔
چار ستمبر جب عالمی یوم حجاب آتا ہے تو مجھے جانے کیوں اپنی وہ بیٹیاں یاد آتی ہیں جو آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے سر پر دوپٹہ رکھتی ہیں اور پھر خود کو دیکھ کر مسکرا دیتی ہیں۔ شاید انہیں ابھی معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ صرف دوپٹہ نہیں اوڑھ رہیں بلکہ ایک ایسی روایت کو اپنے وجود کا حصہ بنا رہی ہیں جس کے پیچھے صدیوں کی حیا، قربانیاں، محبت اور ایمان کی داستانیں چھپی ہیں۔
حجاب کو دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، اسے سمجھنے کے لیے دل چاہیے۔
آج کا زمانہ عجیب زمانہ ہے۔ یہاں انسان کی قدر اکثر اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے لباس، چہرے اور ظاہری حسن سے کی جاتی ہے۔ لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ خوبصورت دکھو تاکہ دنیا تمہیں پسند کرے۔ اسے آئینے کے سامنے کھڑا کرکے اس کے چہرے کے نقائص گنوائے جاتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہاری کامیابی تمہاری خوبصورتی میں ہے۔
مگر حجاب ایک خاموش آواز بن کر کہتا ہے
نہیں
تمہاری اصل پہچان تمہارا چہرہ نہیں
تمہاری اصل پہچان تمہارا کردار ہے
تمہارے وجود کی قیمت کسی کی نظریں طے نہیں کر سکتیں۔
یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک حجاب کسی عورت کو چھوٹا نہیں کرتا بلکہ اسے اس شور سے نکال کر ایک ایسی خاموش طاقت عطا کرتا ہے جسے ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔
میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ ایک چادر کتنی عجیب چیز ہے۔ وہ سر پر رکھی جاتی ہے مگر اثر دل تک اترتا ہے۔ وہ جسم کو ڈھانپتی ہے مگر انسان کے اندر احساس جگاتی ہے۔ وہ چہرے کو چھپا سکتی ہے مگر شخصیت کو نہیں چھپا سکتی۔
ایک باحجاب عورت جب علم حاصل کرتی ہے تو اس کا علم چھپتا نہیں۔
جب وہ قلم اٹھاتی ہے تو اس کے لفظ پردے میں نہیں جاتے۔
جب وہ ڈاکٹر بن کر کسی مریض کی جان بچاتی ہے تو اس کی خدمت کا کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
جب وہ استاد بن کر نسلیں سنوارتی ہے تو اس کی محنت چھپائی نہیں جا سکتی۔
جب وہ ماں بن کر اپنی اولاد کی تربیت کرتی ہے تو اس کی گود میں مستقبل پل رہا ہوتا ہے۔
تو پھر حجاب کو عورت کی رکاوٹ کیوں سمجھا جائے؟
رکاوٹ تو وہ سوچ ہے جو عورت کی پوری شخصیت کو صرف اس کے چہرے اور جسم تک محدود کر دیتی ہے۔
حجاب کہتا ہے مجھے میرے کردار سے پہچانو۔
مجھے میرے علم سے پہچانو۔
مجھے میری صلاحیت سے پہچانو۔
مجھے میرے اخلاق سے پہچانو۔
میرے لباس کو میری پوری شخصیت کا خلاصہ نہ بناؤ۔
لیکن حجاب کی بات کرتے ہوئے ایک حقیقت ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ماننی ہوگی۔ حجاب صرف عورت کے سر پر نہیں ہوتا۔ اگر ایک عورت نے سر ڈھانپ لیا مگر اس کی زبان کسی کی عزت اچھالتی رہی تو حجاب کی روح کہاں رہی؟ اگر لباس میں پردہ تھا مگر دل میں تکبر تھا تو وہ حیا کہاں رہی؟ اگر دوپٹہ سر پر تھا مگر کسی مجبور کا حق چھین لیا گیا تو پھر اس پردے کا مقصد کیا رہ گیا؟
حجاب باہر سے شروع ہو کر اندر تک پہنچنے کا نام ہے۔
یہ نگاہ کو بھی پاکیزہ کرتا ہے اور نیت کو بھی۔
یہ زبان کو بھی سنبھالتا ہے اور رویے کو بھی۔
اور یہاں صرف عورت ہی مخاطب نہیں۔
مرد بھی مخاطب ہے۔
جس معاشرے میں عورت سے حیا کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہاں مرد سے بھی نگاہ کی حیا کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ عورت کو پردے کا حکم دے کر مرد کو اس کی نگاہ کی آزادی دینا انصاف نہیں۔ پاکیزگی ہمیشہ دونوں طرف سے آتی ہے۔
ایک بیٹی کو جب حجاب کا مطلب سمجھایا جائے تو اسے خوف کے ساتھ نہیں بلکہ محبت کے ساتھ سمجھایا جائے۔ اسے یہ نہ کہا جائے کہ تمہیں دنیا سے چھپنا ہے بلکہ یہ بتایا جائے کہ تمہیں اپنی عزت کی حفاظت کرنی ہے۔ اسے یہ نہ سکھایا جائے کہ تم کمزور ہو اس لیے پردہ کرو بلکہ یہ احساس دیا جائے کہ تم باوقار ہو اور تمہارا وجود عزت کے قابل ہے۔
ہم اپنی بیٹیوں کو اگر صرف حجاب دیں گے اور تعلیم نہیں دیں گے تو ہم ادھوری تربیت کریں گے۔
اگر تعلیم دیں گے مگر حیا نہیں دیں گے تو تب بھی کچھ کمی رہ جائے گی۔
انہیں حجاب کے ساتھ علم چاہیے۔
حجاب کے ساتھ شعور چاہیے۔
حجاب کے ساتھ خود اعتمادی چاہیے۔
حجاب کے ساتھ کردار چاہیے۔
کیونکہ اسلام نے عورت کو صرف پردے میں نہیں رکھا بلکہ اسے علم، عزت، وراثت، رائے اور شخصیت کا حق بھی دیا۔
مجھے کبھی کبھی ایک ماں کا چہرہ یاد آتا ہے جو اپنی بیٹی کے سر پر دوپٹہ رکھتے ہوئے شاید دل ہی دل میں دعا کرتی ہوگی
اے میرے رب
میری بیٹی کو دنیا کی ہر بری نظر سے بچانا
اس کے نصیب میں عزت لکھنا
اس کے قدموں کو سیدھا رکھنا
اس کے دل میں حیا رکھنا
اور اسے اتنی طاقت دینا کہ وہ دنیا کے شور میں بھی اپنی پہچان نہ بھولے۔
شاید یہی حجاب کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔
ایک ماں کی دعا
ایک بیٹی کا وقار
اور رب کی رضا کی طرف اٹھتا ہوا ایک قدم۔
آج ہمیں حجاب کو مذاق بنانے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے حجاب کا مذاق اڑانا صرف کپڑے کا مذاق نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی کسی کے ایمان، احساس اور ذاتی انتخاب کو زخمی کر دیتا ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ دین کی بات حکمت اور محبت سے کی جائے۔ کیونکہ دلوں کو فتح کرنے کا راستہ سخت الفاظ نہیں بلکہ اچھا کردار ہے۔
حجاب کسی کے لیے محض لباس ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے عبادت۔
کسی کے لیے روایت ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے شناخت۔
کسی کے لیے ثقافت ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے رب سے تعلق۔
اس لیے ہمیں فیصلے سنانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
چار ستمبر صرف کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تاریخ نہیں۔ یہ ہمیں اپنے معاشرے کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
ہم عورت کے لباس پر تو بہت بات کرتے ہیں
مگر اپنی نگاہوں پر کب بات کریں گے؟
ہم عورت کی حیا پر سوال تو اٹھاتے ہیں
مگر اپنی زبان کی حیا کب دیکھیں گے؟
ہم بیٹی کو پردے کا سبق تو دیتے ہیں
مگر بیٹے کو عورت کی عزت کا سبق کب دیں گے؟
یہ سوال صرف عورت سے نہیں
پورے معاشرے سے ہے۔
کیونکہ حیا صرف عورت کے لباس میں نہیں ہوتی۔
حیا ایک مرد کی نگاہ میں بھی ہونی چاہیے۔
حیا ایک باپ کے رویے میں بھی ہونی چاہیے۔
حیا ایک بھائی کے لہجے میں بھی ہونی چاہیے۔
حیا ایک شوہر کے برتاؤ میں بھی ہونی چاہیے۔
حیا ایک بیٹی کے لباس میں بھی ہو سکتی ہے اور ایک بیٹے کے کردار میں بھی۔
اور جب حیا دونوں طرف آ جائے تو معاشرہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔
میرے نزدیک حجاب ایک خاموش احتجاج بھی ہے۔ اس دنیا کے خلاف جہاں عورت کو کبھی نمائش بنا کر بیچا جاتا ہے اور کبھی اس کے جسم کو کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ حجاب کہتا ہے کہ میں کسی کی نظروں کی تسکین کے لیے نہیں جیتی۔ میری زندگی کی اپنی حرمت ہے۔ میرے جسم کی اپنی عزت ہے۔ میری شخصیت کسی بازار کی قیمت نہیں۔
یہ ایک چادر ہے مگر اس کے اندر ایک پوری سوچ سانس لیتی ہے۔
یہ ایک پردہ ہے مگر اس کے پیچھے ایک مکمل شخصیت موجود ہے۔
یہ خاموش ہے مگر اس کا پیغام بہت بلند ہے۔
اور شاید اسی لیے مجھے حجاب ہمیشہ ایک خوبصورت دعا کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
ایسی دعا جو سر سے شروع ہوتی ہے اور دل تک اتر جاتی ہے۔
آئیے اس عالمی یوم حجاب پر صرف حجاب کی تصویریں نہ لگائیں اور چند خوبصورت جملے لکھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
آئیے اپنے گھروں میں حیا واپس لائیں۔
اپنی گفتگو میں شائستگی واپس لائیں۔
اپنی نگاہوں میں پاکیزگی واپس لائیں۔
اپنی بیٹیوں میں اعتماد پیدا کریں۔
اپنے بیٹوں کو عورت کا احترام سکھائیں۔
اور اپنی زندگی میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسان کا اصل حسن اس کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتا ہے۔
کیونکہ چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں
لباس وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں
فیشن وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے
مگر کردار
کردار انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
اور شاید یہی حجاب کا اصل حسن ہے۔
یہ صرف جسم کو نہیں ڈھانپتا
یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے اندر بھی ایک دنیا ہے
ایک ضمیر ہے
ایک کردار ہے
ایک عزت ہے
اور ایک رب ہے
جس کے سامنے ایک دن ہر پردہ اٹھ جانا ہے۔
