Baaghi TV


نیتن یاہو 2009 سے ایران پر حملے کے لیے امریکی حمایت مانگتے رہے، ہلیری کلنٹن

‎امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو 2009 سے مسلسل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
‎ایک انٹرویو میں ہلیری کلنٹن نے بتایا کہ ان کے دورِ وزارتِ خارجہ کے دوران نیتن یاہو، اُس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک اور دیگر اسرائیلی حکام بارہا واشنگٹن پر زور دیتے تھے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کرے۔
‎انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ مسلسل جاری رہتا تھا اور اسرائیلی قیادت بار بار یہی مؤقف اختیار کرتی تھی کہ امریکا کو ایران پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہلیری کلنٹن کے مطابق یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سفارتی موضوعات میں شامل رہا۔
‎سابق امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ 2009 سے 2012 کے درمیان امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کے لیے زیادہ عسکری صلاحیت موجود تھی، جس کے باعث اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مسلسل مشاورت اور اختلافِ رائے بھی دیکھنے میں آیا۔
‎ہلیری کلنٹن نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام اکثر یہ کہتے تھے کہ ان کے جنگی طیارے رن وے پر تیار کھڑے ہیں اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول، اسرائیل کی جانب سے امریکی حکومت پر ہر وقت اس حوالے سے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
‎ان کے اس بیان نے ایک بار پھر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق ماضی کی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی پر بحث کو تازہ کر دیا ہے۔

More posts