بعض اعزازات ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورے عہد، ایک نظریے، ایک علمی روایت اور ایک مقدس مشن کی توقیر لے کر آتے ہیں۔ بعض لمحے محض کیلنڈر کا ایک دن نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے صفحات پر اپنی روشن لکیر ثبت کر جاتے ہیں اور بعض تقریبات صرف تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس بات کا اعلان ہوتی ہیں کہ معاشرہ ابھی علم، قرآن، اہلِ علم اور دینی خدمت کی قدر کرنا جانتا ہے۔
پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی طرف سے عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و قرآنی شخصیت، بلبلِ قرآن قاری صہیب احمد میر محمدی کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کیا جانا بھی ایسا ہی ایک یادگار اور قابلِ فخر لمحہ ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کے دستِ مبارک سے گورنر ہاس لاہور میں اس اعزاز کی عطائیگی کے لیے خصوصی کانووکیشن کا انعقاد بلاشبہ ایک منفرد موقع تھا۔ اس موقع کی خوبصورتی صرف اس بات میں نہیں تھی کہ ایک معروف قاری قرآن کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی، بلکہ اصل حسن اس حقیقت میں تھا کہ قرآن کی خدمت میں زندگی گزارنے والی ایک شخصیت کو ایک موقر اور معروف جامعہ نے اپنے علمی اعتراف کا مستحق سمجھا۔ یہ اعزاز قاری صہیب احمد میر محمدی کی شخصیت کے لیے یقینا باعثِ مسرت ہے۔
قاری صہیب احمد میر محمدی کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعزاز اچانک نہیں آیا۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، قرآن مجید کے ساتھ وابستگی، علمی سفر، اساتذہ کی صحبت، سعودی عرب میں تعلیم، تدریس، قرا ت اور دعوت کا ایک طویل سفر موجود ہے۔
قاری صہیب احمد میر محمدی 1975 میں ضلع قصور کے موضع میر محمد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حافظ محمد عبداللہ ایک باعمل عالم اور متقی بزرگ تھے۔ قرآن کریم سے ان کا تعلق گھر ہی سے قائم ہوا۔ والد محترم نے ابتدائی قاعدہ اور قرآن کی تعلیم کی بنیاد رکھی اور یوں وہ بچپن ہی سے اس کتاب سے وابستہ ہوگئے جس نے آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا عنوان بننا تھا۔
ان کا تعلیمی سفر بھی غیر معمولی رہا۔ سکول کی تعلیم کے ساتھ قرآن مجید حفظ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف اساتذہ سے حفظ کیا اور پھر جامعہ رحمانیہ، لاہور کے کلیۃ القرآن الکریم میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے قرات السبع اور قرات العشرہ سمیت قرآن و دینی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں شیخ الحدیث حافظ ثنا اللہ مدنی رحمہ اللہ، حافظ عبدالرحمن مدنی قاری ابراہیم میر محمدی اور دیگر ممتاز اہلِ علم شامل تھے۔
پھر ان کے علمی سفر نے مدینہ نبویہ کا رخ کیا۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ میں چار سال تعلیم حاصل کی اور ممتاز پوزیشن کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ وہاں دوران تعلیم یونیورسٹی کی مسجد میں امامت کی سعادت بھی حاصل رہی ۔ ایک پاکستانی نوجوان کے لیے مدینہ نبویہ کی علمی فضا میں قرآن و علومِ شریعت کا حصول اپنے اندر ہی ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں دنیا بھر سے علم کے پیاسے آتے ہیں، جہاں مسجد نبوی ﷺ کی روحانی فضا دلوں کو بدلتی ہے اور جہاں قرآن و سنت کے علوم کی ایک عظیم روایت زندہ ہے۔
قاری صہیب احمد میر محمدی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو خوبصورت لہجہ قرآن کریم کی تلاوت ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت میں حسنِ صوت اللہ تعالی کی عطا ہے، لیکن اس نعمت کو علم، تجوید اور قرا ت کے اصولوں کے ساتھ جمع کرنا ایک مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ قرات کے میدان میں ان کی شناخت محض ایک خوبصورت آواز رکھنے والے قاری کی نہیں بلکہ قرآن کی قرات اور تعلیم سے وابستہ ایک صاحبِ علم شخصیت کی ہے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ سے فراغت کے بعد الریاض سعودی عرب میں بھی آپ نے امامت، حلقاتِ قرآن اور دینی تدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔
پاکستان واپسی کے بعد بھی آپ کی زندگی قرآن کی تعلیم اور دعوت کے گرد گھومتی رہی۔ ضلع قصور میں مرکز ادار الاصلاح، کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ اور روضۃ القرآن الکریم جیسے تعلیمی و دینی ادارے قائم کئے ۔ آپ کی شناخت ایک ایسے عالم، قاری اور داعی کی ہے جس نے قرآن کو صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ اسے پڑھانے، سمجھانے اور لوگوں تک پہنچانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جب ایسی شخصیت کو ایک معروف اور موقر جامعہ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کرتی ہے تو اس کا مفہوم صرف ایک سند کا اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹی نے علم کی ایک ایسی شخصیت کو بھی تسلیم کیا ہے جو لیبارٹریوں، لائبریریوں اور تحقیقی مقالوں میں نہیں بلکہ مسجد، مدرسہ، محراب، منبر اور قرآن کے حلقوں میں پروان چڑھی ہے۔
میرا قاری صہیب احمد میر محمدی سے تعلق بہت پرانا اور گہرا ہے، لوجہ اللہ دیرینہ باھمی محبت بھی مثالی ہے سعودیہ عرب الریاض میں بھی اکھٹے وقت گزارا ہے۔
مجھے اس خبر نے ذاتی طور پر اس لیے بھی بہت خوشی دی کہ یہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ قاری صہیب احمد میر محمدی جیسی شخصیت کی علمی و قرآنی خدمات کو ایک بڑے تعلیمی ادارے کی طرف سے باقاعدہ اعزاز ملے۔کیونکہ یہ اعزاز صرف قاری صہیب احمد میر محمدی کا نہیں، جماعت ، مسلک اہل حدیث ا ور اہل دین کا اعزاز ہے ۔ آج جب یہ خواہش حقیقت بن کر سامنے آئی تو دل بے اختیار اللہ تعالی کے حضور جھک گیا اور آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہوگئے ۔انسان جب کسی نیک خواہش کو برسوں دل میں لیے پھرتا ہے اور پھر اس خواہش کو اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت بنتے دیکھتا ہے تو خوشی صرف خوشی نہیں رہتی، وہ شکر بن جاتی ہے۔
اس تقریب کا ایک اور روح پرور پہلو یہ تھا کہ تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت ہمارے بھتیجے اور قاری صہیب احمد میر محمدی کے صاحبزادے قاری عمرو صہیب متعلم مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب کے حصے میں آئی۔ یہ منظر یقینا ایک خوبصورت علامت تھا۔ ایک طرف والد قرآن کی خدمت کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ وصول کر رہے تھے اور دوسری طرف ان کے صاحبزادے اسی تقریب میں قرآن کی تلاوت سے محفل کو منور کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک نسل قرآن کی خدمت کا جو چراغ تھام کر آگے بڑھی تھی، اس کی روشنی اگلی نسل کے ہاتھ میں منتقل ہو رہی ہے۔
یہ لمحہ قاری صاحب کے لیے بھی اعزاز تھا، ان کے خاندان کے لیے بھی خوشی کا موقع تھا، ان کے شاگردوں کے لیے بھی باعثِ فخر تھا اور ان سے محبت کرنے والے ہمارے جیسے دوستوں اور ہر اس شخص کے لیے بھی مسرت کا باعث تھا جس کا دل قرآن کریم کی محبت سے آباد ہے۔
المجلس الاسلامی باکستان اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے رئیس کی حیثیت سے میں قاری صہیب احمد میر محمدی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کی علمی، قرآنی اور دعوتی خدمات ایک ایسی میراث ہیں جن سے آنے والی نسلیں بھی فائدہ اٹھائیں گی۔
یہ کالم تکمیل کے مراحل میں تھا تو ڈاکٹریٹ کی نسبت سے چند اور بھی حوصلہ افزا اور خوشی کی خبریں ملیں ۔ جن میں ہمارے تایا زاد اور بڑے بہنوئی عزیز از دل وجان ابو عبدالرحمان قاری عبداللطیف ساجد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے حدیث میں ، پیارے دوست علامہ ہشام الہی ظہیر کی پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اسلامیات میں اور ہمارے عزیز خالہ زاد بیٹے حافظ عبدالسمیع عاصم کی بارانی یونیورسٹی راولپنڈی سے فوڈ میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی خبریں شامل تھیں میں انہیں بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کے لیے بھی دعا گو ہوں ۔
