پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ ملکی زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید زرعی اصلاحات، پریسیژن فارمنگ اور تحقیق پر مبنی پالیسی سازی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےزرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے دورے کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی سے ملاقات کے دوران کیا، جس میں زرعی ترقی، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی کسانوں تک منتقلی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سحر کامران نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی تعلیمی و تحقیقی خدمات اور غذائی استحکام کے لیے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں روایتی طریقہ ہائے کاشت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہےانہوں نے کہا کہ پریسیژن ایگریکلچر کے ذریعے پانی کے ضیاع میں کمی اور محدود وسائل سے زیادہ پیداوار کا حصول ممکن ہے جبکہ لیبارٹریوں میں ہونے والی جدید تحقیق کو عملی طور پر کسانوں کے کھیتوں تک پہنچانے کے لیے پالیسی سازوں، جامعات اور کاشتکاروں کے درمیان مضبوط روابط ضروری ہیں۔انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی جانب سے اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے سحر کامران کو یونیورسٹی کی جاری تحقیقی سرگرمیوں اور پائیدار زراعت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی مقامی موسم اور زمین کی ضروریات کے مطابق زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام کی تیاری، جدید زرعی طریقوں اور پریسیژن ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کی پائیدار ترقی کے لیے جدید زرعی طریقوں اور معاون پالیسیوں کا اشتراک ناگزیر ہے، جبکہ پالیسی سازوں اور فارمرز کے باہمی تعاون سے جدید ٹیکنالوجی کی کسانوں تک منتقلی کا عمل مزید تیز کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کے معاشی حالات میں بھی بہتری آئے گی۔
