Baaghi TV

جیفری ایپسٹین خواتین کوکیسے قابو کرتا تھا، متاثرہ خاتون کی امریکی اخبار سے گفتگو

امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کے اسکینڈل سے متعلق ایک متاثرہ خاتون جولیا مولچانووا پہلی مرتبہ کھل کر سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین اپنے لیے کام کرنے والی نوجوان خواتین کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف نفسیاتی اور مالی حربے استعمال کرتا تھا۔

دی وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جولیا مولچانووا نے بتایا کہ ایپسٹین اپنے گھروں میں موجود خواتین کو عام طور پر ’اسسٹنٹ‘ قرار دیتا تھا، حالانکہ ان کے بقول اس اصطلاح کے پیچھے اصل حقیقت مختلف تھی،جب کوئی مہمان آتا تو ایپسٹین انہیں اپنا اسسٹنٹ متعارف کراتا تاکہ مبینہ زیادتی اور استحصال کو چھپایا جاسکے، ’اسسٹنٹ‘ کا لفظ دراصل ایک قانونی پردہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 22 سال کی تھیں اور روس سے نیویارک آئی تھیں، اس وقت وہ انگریزی زبان نہیں جانتی تھیں،ان کے بقول ایپسٹین نے سڑک پر ان سے رابطہ کیا اور بظاہر انتہائی مہربانی سے پیش آیا، جس کے باعث انہیں ابتدا میں کسی خطرے کا احساس نہیں ہوا، دونوں نے فون نمبرز کا تبادلہ کیا۔

اگلے روز ایپسٹین نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا اور ان کی زندگی اور دلچسپیوں کے بارے میں سوالات کیے، مولچانووا کے مطابق ایپسٹین کو معلوم ہوا کہ وہ ایک مبینہ طور پر تشدد پسند تعلق میں تھیں اور ڈیزائن و فیشن میں دلچسپی رکھتی تھیں، ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ فیشن انڈسٹری میں اس کے روابط ہیں اور وہ انہیں نیویارک کے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلے میں مدد دے سکتا ہے۔

مولچانووا نے بتایا کہ روس واپس جانے کے بعد مولچانووا کو دوبارہ نیویارک آنے کی دعوت دی گئی، ان کے مطابق ایپسٹین نے کہا کہ اس کا سیکریٹری انہیں ادارے کا دورہ کر انے کا انتظام کرے گا بعد ازاں ان کی ایپسٹین سے پیرس میں دوبارہ ملاقات ہوئی،اپنے بوائے فرینڈ سے ایک جھگڑے کے بعد انہو ں نے ایپسٹین سے رابطہ کیا، جس نے انہیں روس واپس بھیجنے میں مدد کی پیشکش کی۔

تاہم، ان کے بقول، اس کے بجائے ایپسٹین نے انہیں نیویارک کے ایک اپارٹمنٹ میں منتقل کردیا جہاں پہلے ہی دیگر خواتین موجود تھیں ان کے مطابق اسی عرصے کے دوران مبینہ زیادتی کا سلسلہ شروع ہوا۔

مولچانووا نے ایپسٹین کو انتہائی چالاک اور جوڑ توڑ کرنے والا شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کا سہارا لینے سے پہلے لوگوں پر نفسیاتی طور پر اپنا کنٹرول قائم کرتا تھا،ایپسٹین خواتین کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اثرانداز ہوتا تھا۔ وہ انہیں کریڈٹ کارڈز دیتا، لیکن اخراجات کی مکمل وضاحت اور خریداری کی رسیدوں کی تصاویر طلب کرتا تھا،خواتین کو ایسے فون اور لیپ ٹاپ بھی دیے جاتے تھے جو اس کے اکاؤنٹس سے منسلک تھے، ایپسٹین خواتین کے لباس، بالوں کے انداز حتیٰ کہ ان کے وزن کے بارے میں بھی ہدایات دیتا تھا۔

ان کے مطابق خواتین سے یہ توقع بھی کی جاتی تھی کہ وہ ایپسٹین کی جانب سے دیے گئے تحائف یا فراہم کی گئی سہولیات پر اسے شکریہ کے پیغامات بھیجیں،انکار کی صورت میں وہ مبینہ طور پر غصے میں چیختا تھا، بعض مواقع پر خواتین کو کمروں میں رہنے اور باہر نہ نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا،انہیں تقریباً 24 گھنٹے تک ایک کمرے میں رکھا گیا۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایپسٹین خواتین کو ان کے دوستوں اور خاندان سے دور رکھنے کی کوشش کرتا تھا، انہیں مبینہ زیادتی کے بارے میں بات کر نے سے روکتا اور اپنے اردگرد موجود افراد کو نئی لڑکیوں کو اس تک پہنچانے کی ترغیب دیتا تھا، انہوں نے کسی کو ایپسٹین سے متعارف کرانے سے انکار کیا، جس پر انہیں سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

مولچانووا نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران وہ اکثر شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار رہتی تھیں، تاہم جب انہوں نے ماہرِ نفسیات سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ایپسٹین نے مبینہ طور پر انکار کردیا ایپسٹین کی طاقت، دولت اور بااثر شخصیات سے روابط کے باعث ان کے لیے حکام سے مدد طلب کرنا بھی انتہائی مشکل تھاانہیں خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے حکام سے رابطہ کیا تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، کیونکہ ایپسٹین کے سیاست دانوں اور دیگر بااثر افراد سے روابط تھے۔

مولچانووا نے بتایا کہ 2019 کے آغاز میں انہیں اپنے نام پر ایسے کریڈٹ کارڈز اور خریداریوں کا علم ہوا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی انہیں استعمال نہیں کیا تھا انہوں نے ایک کریڈٹ مانیٹرنگ ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے مالی ریکارڈ کی جانچ کی تو ایسے اکاؤنٹس سامنے آئے جو ان کے نام سے منسلک تھے، حالانکہ وہ ان کے استعمال سے لاعلم تھیں۔

More posts