نیویارک: کافی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتی ہے، اور اب نئی طبی تحقیق نے اس کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری سنائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کافی مناسب مقدار میں پی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ دل کی صحت کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق روزانہ مناسب مقدار میں کافی پینا دل کی مختلف بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے سے منسلک ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کافی آنتوں کے مفید بیکٹیریا پر مثبت اثر ڈالنے، جسمانی صحت برقرار رکھنے اور بعض دائمی بیماریوں کے خطرات میں کمی سے بھی تعلق رکھتی ہے۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد کے لیے روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً دو سے تین بڑے (12 اونس) کپ کافی یا تقریباً پانچ چھوٹے (8 اونس) کپ کافی کے برابر ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حد کے اندر کافی پینا عام طور پر محفوظ ہے اور اس سے صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس سے زیادہ کیفین نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ تین سے پانچ کپ بلیک کافی پینے والے افراد میں متعدد بیماریوں کے خطرات نسبتاً کم دیکھے گئےجن میںٹائپ ٹو ذیابیطس،دل کی شریانوں کی بیماریاں،فالج (اسٹروک)،دل کی کمزوری (ہارٹ فیلیئر)،دل کی دھڑکن کی بعض بے ترتیبیاں شامل ہیں،تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مناسب مقدار میں کافی پینے والے افراد میں مجموعی طور پر قلبی صحت بہتر رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیفین کی مقدار روزانہ تجویز کردہ حد سے بڑھ جائے، خصوصاً انرجی ڈرنکس، انرجی شاٹس یا کیفین سپلیمنٹس کے ذریعے، تو اس کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔زیادہ کیفین استعمال کرنے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔نیند متاثر ہو سکتی ہے۔بعض افراد میں دل کی دھڑکن تیز محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف کافی پینا ہی کافی نہیں بلکہ اس میں شامل کی جانے والی چیزیں بھی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں.اگر کافی میں زیادہ مقدار میں چینی،میٹھے شربت ،کریم،یا دیگر میٹھے اجزاء شامل کیے جائیں،تو کافی کے ممکنہ طبی فوائد کم ہو سکتے ہیں۔اسی طرح بعض اقسام کی کافی، جیسے ایسپریسو (Espresso)،فرنچ پریس (French Press)،ترکش کافی (Turkish Coffee)میں موجود کافیسٹرول (Cafestol) نامی مرکب بعض افراد میں خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح بڑھانے سے منسلک پایا گیا ہے۔
ماہر امراض قلب ڈاکٹر گریگوری ایم مارکس کے مطابق کیفین کے استعمال کے لیے کوئی ایک اصول سب پر لاگو نہیں ہوتا۔ان کے مطابق مختلف عوامل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کافی کسی شخص پر کس طرح اثر ڈالے گی، جن میں عمر،جینیاتی خصوصیات،مجموعی صحت،استعمال ہونے والی ادویات،جسم میں کیفین کو جذب اور خارج کرنے کی رفتارشامل ہیں،انہوں نے کہا کہ جو مقدار ایک شخص کے لیے محفوظ ہو سکتی ہے، وہی کسی دوسرے شخص میں دل کی دھڑکن تیز ہونے، بے چینی یا نیند کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے پر کافی کے مقابلے میں کم تحقیق ہوئی ہے، تاہم دستیاب شواہد کے مطابق چائے پینے سے بھی دل کی بعض بیماریوں، فالج اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔دوسری جانب انرجی ڈرنکس، کیفین جیلز، انرجی بارز اور کیفین سپلیمنٹس میں موجود اضافی اجزاء کیفین کے اثرات کو زیادہ تیزی سے بڑھا سکتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر میں اضافہ اور دل پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد اگر روزانہ اعتدال کے ساتھ تین سے پانچ کپ سادہ بلیک کافی پیتے ہیں اور کیفین کی مجموعی مقدار 400 ملی گرام سے کم رکھتے ہیں تو انہیں دل کی صحت سمیت کئی طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم جن افراد کو ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، بے خوابی یا کیفین سے حساسیت ہو، انہیں اپنی کیفیت کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے سے کافی کا استعمال کرنا چاہیے۔
