Baaghi TV

"چاندی” کے زیورات میں سرطان پیدا کرنے والی زہریلی دھات کا انکشاف

لندن: ایک نئی تحقیق نے آن لائن خریداری کرنے والے صارفین کے لیے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایمیزون اور ٹک ٹاک شاپ پر فروخت ہونے والے بعض ایسے زیورات، جنہیں 925 سٹرلنگ سلور یا چاندی کے زیورات کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، درحقیقت ان میں خطرناک حد تک کیڈمیم (Cadmium) نامی زہریلی دھات موجود تھی، جو عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سرطان (کینسر) پیدا کرنے والے مادوں میں شامل ہے۔

تحقیق کے مطابق کئی انگوٹھیوں، بریسلٹس اور دیگر زیورات کے نمونوں کی آزاد لیبارٹریوں میں جانچ کی گئی، جس میں معلوم ہوا کہ ان میں موجود کیڈمیم کی مقدار برطانیہ میں مقررہ قانونی حد سے ہزاروں گنا زیادہ تھی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں زیورات میں کیڈمیم کی زیادہ سے زیادہ قابل اجازت مقدار 0.01 فیصد مقرر ہے، لیکن ایک انگوٹھی، جو ایمیزون پر "Women’s 925 Sterling Silver Simple Open Adjustable Rings” کے نام سے فروخت کی جا رہی تھی، اس میں 92 فیصد سے زیادہ کیڈمیم موجود تھا، جو قانونی حد سے تقریباً 9 ہزار گنا زیادہ ہے۔اسی طرح ٹک ٹاک شاپ پر فروخت ہونے والے ایک چارم بریسلٹ میں کیڈمیم کی مقدار برطانوی معیار سے 3 ہزار 300 گنا زیادہ پائی گئی۔

کیڈمیم ایک چاندی نما سفید دھات ہے جو عام طور پر ریچارج ایبل بیٹریوں، دھاتی کوٹنگ، صنعتی مصنوعات اور بعض الیکٹرانک سامان میں استعمال ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس دھات سے طویل عرصے تک یا بار بار واسطہ پڑنے سے گردوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔جگر متاثر ہو سکتا ہے۔ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں اور آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔پھیپھڑوں کی بیماریاں اور پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہو سکتا ہے۔گردوں کے کینسر سمیت مختلف اقسام کے سرطان کا امکان بڑھ جاتا ہے۔امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق کیڈمیم کا صرف تقریباً 0.5 فیصد حصہ جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہوتا ہے، تاہم خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب کوئی شخص زیور کو ہاتھ لگانے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھائے یا منہ کو چھوئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانوں میں سوراخ یا جلد پر زخم موجود ہوں تو کیڈمیم والے کانوں کے زیورات زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ دھات براہ راست جسم میں داخل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

کنگز کالج لندن کے مالیکیولر ایکوٹاکسی کولوجی کے پروفیسر کرسٹر ہوگسٹرینڈ نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ "کیڈمیم سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے۔ پارا یقیناً خطرناک ہے، لیکن کیڈمیم اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اس دھات کی معمولی مقدار بھی انسانی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بالغ افراد کے زیورات میں کیڈمیم کی مقدار کے حوالے سے کوئی وفاقی قانون موجود نہیں، تاہم مختلف ریاستوں نے اپنے الگ ضابطے نافذ کر رکھے ہیں۔کیلیفورنیا میں زیورات میں کیڈمیم کی زیادہ سے زیادہ مقدار 0.03 فیصد مقرر ہے۔الی نوائے میں بچوں کے زیورات کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔واشنگٹن ریاست بچوں کی مصنوعات میں کیڈمیم کی انتہائی کم حد مقرر کرنے والی ریاستوں میں شامل ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب زیورات میں زہریلی دھاتوں کی موجودگی سامنے آئی ہو۔ 2018 میں امریکی غیر منافع بخش تنظیم Center for Environmental Health کی لیبارٹری جانچ میں بھی بعض معروف ریٹیل اسٹورز پر فروخت ہونے والے زیورات میں 40 سے 90 فیصد سے زائد کیڈمیم پایا گیا تھا۔اسی سال برطانیہ کے Office for Product Safety and Standards نے سرحد پر ایسی متعدد کھیپیں روک کر تلف کر دی تھیں جن میں خطرناک حد تک کیڈمیم موجود تھا۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ انتہائی سستے داموں فروخت ہونے والے "خالص چاندی” کے زیورات خریدنے سے پہلے احتیاط کریں۔صرف معتبر برانڈز اور مستند فروخت کنندگان سے خریداری کریں۔مصنوعات کے حفاظتی سرٹیفکیٹ اور معیار کی معلومات ضرور چیک کریں۔اگر زیور استعمال کرنے سے جلد پر خارش، جلن یا الرجی محسوس ہو تو فوری استعمال بند کر دیں۔بچوں کے لیے غیر تصدیق شدہ یا سستے دھاتی زیورات خریدنے سے گریز کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن خریداری میں کم قیمت ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی، کیونکہ بعض اوقات بظاہر خوبصورت اور سستے زیورات انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

More posts