کبھی کبھی مجھے لگتا ہے پاکستان ایک ملک نہیں، ایک ایسا شخص ہے جو برسوں سے اپنے ہی گھر کی دہلیز پر بیٹھا کسی کے لوٹ آنے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ شخص جس کے ہاتھ میں ابھی بھی امید کی ایک چھوٹی سی شمع ہے، مگر انگلیاں جل چکی ہیں۔ وہ مسکراتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوش نہیں، صرف دوسروں کو حوصلہ دے رہا ہے۔ وہ خاموش ہے تو یہ مت سمجھنا کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، شاید اس نے بہت کچھ کہہ کر دیکھ لیا ہے۔ ہم نے اس ملک کو نقشے میں تو بہت دیکھا، مگر کبھی اس کی آنکھوں میں جھانک کر نہیں دیکھا۔ اگر آج پاکستان کی آنکھوں میں دیکھیں تو وہاں کیا نظر آئے گا؟ ایک ماں نظر آئے گی جو مہنگائی کے بیچ اپنے بچوں کے مستقبل کا حساب لگا رہی ہے۔ ایک باپ نظر آئے گا جو اپنی ضرورتیں چھپا کر اولاد کی خواہشیں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک نوجوان نظر آئے گا جو ڈگری ہاتھ میں لیے سوچ رہا ہے کہ اس ملک میں اس کے خواب کی کوئی جگہ ہے بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم نظر آئے گا جو کتاب کھولتا ہے مگر مستقبل کے سوالات اسے پڑھنے نہیں دیتے۔ اور ایک عام آدمی… وہ شاید اب سوال بھی نہیں کرتا، کیونکہ کچھ سوال اتنی بار پوچھے جائیں کہ جواب نہ ملے تو انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں خطرے میں پڑتی ہیں؛ جب بھوک صرف پیٹ میں نہ رہے، دل میں اتر جائے؛ جب مایوسی صرف حالات میں نہ رہے، نسلوں کی سوچ بن جائے؛ جب نوجوان اپنے ملک کو بنانے کے خواب کے بجائے اسے چھوڑنے کے راستے تلاش کرنے لگے؛ اور جب ایک قوم کے بہترین ذہن یہ سوچنے لگیں کہ یہاں رہ کر کیا ملے گا؟ تب مسئلہ صرف معیشت کا نہیں رہتا، تب مسئلہ روح کا ہوتا ہے۔
ہم نے بہت سال یہ بحث کی کہ قصور کس کا ہے۔ کسی نے سیاست کو ذمہ دار ٹھہرایا، کسی نے اداروں کو، کسی نے حکمرانوں کو، کسی نے عوام کو، اور شاید ہم سب اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ درست بھی کہتے رہے۔ مگر ایک سوال آج بھی جواب مانگتا ہے: آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب ہم نے اپنے ملک کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا چھوڑ دیا؟ کب ہم نے یہ سیکھ لیا کہ اگر مسئلہ میرے گھر کی چار دیواری سے باہر ہے تو وہ میرا مسئلہ نہیں؟ کب ہم نے دوسروں کی تکلیف کو صرف ایک خبر سمجھنا شروع کیا؟ کب کسی غریب کی بھوک ہمارے ضمیر کو جگانے کے بجائے ہماری انگلی کو موبائل کی اسکرین پر اسکرول کرنے لگی؟ اور سب سے خوفناک سوال یہ ہے کہ کب ہمیں ظلم سے زیادہ اپنے سیاسی اختلاف کی فکر ہونے لگی؟
ہم ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں؛ ناموں پر، جماعتوں پر، جھنڈوں پر، نظریات پر، اور اس دوران شاید اصل پاکستان کہیں ہمارے قدموں کے نیچے خاموشی سے زخمی پڑا ہے۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا، سوال کو بغاوت بنا دیا، تنقید کو نفرت بنا دیا، سیاست کو شناخت بنا لیا، اور پھر حیران ہیں کہ معاشرہ اتنا تقسیم کیوں ہے۔ مگر قومیں صرف سڑکوں پر نہیں ٹوٹتیں؛ قومیں پہلے اپنے دلوں میں ٹوٹتی ہیں۔ ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوتا ہے، پھر مکالمہ ختم ہوتا ہے، پھر برداشت ختم ہوتی ہے، پھر امید ختم ہوتی ہے، اور آخر میں صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔ آج پاکستان میں شور بہت ہے، مگر کیا ہم سن بھی رہے ہیں؟ کیا ہم اس ماں کی آواز سن رہے ہیں جو اپنے بچے کے مستقبل سے خوفزدہ ہے؟ کیا ہم اس نوجوان کی خاموشی سن رہے ہیں جو اپنی صلاحیت کے باوجود راستہ نہیں دیکھ پا رہا؟ کیا ہم اس مزدور کے ہاتھ دیکھ رہے ہیں جن پر محنت کی لکیریں ہیں مگر زندگی کی آسائش نہیں؟ کیا ہم اس استاد کی تھکن دیکھ رہے ہیں جس سے قومیں بنتی ہیں؟ کیا ہم اس ڈاکٹر، انجینئر، کسان، دکاندار، مزدور اور طالب علم کو دیکھ رہے ہیں جو ہر روز اس ملک کو اپنے اپنے حصے سے چلا رہا ہے؟ یا ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا؟
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتا۔ اصل سوال یہ ہے: پاکستان ہارا تو نہیں؟ اور اگر پاکستان ہار رہا ہے تو ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ تماشائیوں کی صف میں یا اس کے زخموں پر ہاتھ رکھنے والوں میں؟ مجھے ڈر کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے سے نہیں لگتا۔ مجھے ڈر اس دن سے لگتا ہے جب پاکستان کے نوجوان امید کرنا چھوڑ دیں گے۔ جب ایک بچہ اپنے استاد سے پوچھے گا، "سر، کیا اس ملک میں رہ کر بھی بڑا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟” اور استاد کے پاس جواب نہ ہوگا۔ مجھے ڈر اس دن سے لگتا ہے جب ایک ماں اپنے بیٹے سے کہے گی، "بیٹا، یہاں مت رکنا… جہاں موقع ملے چلے جانا۔” اور بیٹا جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھے گا۔ کیونکہ جب نسلیں ملک سے محبت تو کریں مگر اپنے مستقبل کو اس ملک سے وابستہ نہ کر سکیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ زخم بہت گہرا ہے۔
لیکن ابھی سب ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ میں نے اس ملک میں آج بھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اندھیرے میں چراغ جلاتے ہیں۔ ایسے استاد جو کم وسائل میں بھی بچوں کو خواب دیکھنا سکھاتے ہیں، ایسے نوجوان جو ہار ماننے کے بجائے دوبارہ شروع کرتے ہیں، ایسے لوگ جو رشوت نہ لے کر شاید اپنے لیے نقصان خریدتے ہیں مگر اپنے ضمیر کو بچا لیتے ہیں، ایسی مائیں جو مشکل حالات میں بھی بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ حلال کم ہو تو بھی حرام سے بہتر ہے۔ اور شاید پاکستان ابھی انہی لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے۔ پاکستان کو شاید کسی ایک نجات دہندہ کا انتظار نہیں۔ پاکستان کو کروڑوں چھوٹے چراغوں کی ضرورت ہے۔ ہر شخص اپنے حصے کا اندھیرا کم کرے، ہر شخص اپنے حصے کا جھوٹ چھوڑ دے، اپنے حصے کی بددیانتی چھوڑ دے، اپنے حصے کی نفرت چھوڑ دے، اپنے حصے کی بے حسی چھوڑ دے، اور اپنے حصے کی امید بچا لے۔ کیونکہ شاید پاکستان کو بچانے کا آغاز پارلیمان سے نہیں، ہماری ذات سے ہوگا۔
اور شاید ایک دن تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ تمہارے دور میں کون حکمران تھا۔ وہ ہم سے صرف یہ پوچھے گی: "جب تمہارا وطن زخمی تھا، تم کیا کر رہے تھے؟” اور اس سوال سے بچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی نعرہ نہیں ہوگا، کوئی جھنڈا نہیں ہوگا، کوئی جماعت نہیں ہوگی، کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ صرف ہم ہوں گے، اور ہمارے سامنے پاکستان ہوگا؛ زخمی، خاموش، مگر شاید اب بھی زندہ۔ اور شاید وہ آخری بار ہم سے یہی کہہ رہا ہوگا: "مجھے بچانے سے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ تم نے مجھے اپنا سمجھا بھی تھا؟”
