Baaghi TV

شیشے کا گھر، پتھر کا شہر ،تحریر: اقصیٰ جبار

انسان بھی عجیب مٹی سے گھڑا گیا ہے۔ باہر کی دنیا میں جتنا سخت اور بے رحم نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی نازک ہوتا ہے۔ دنیا کے سامنے ہم ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر اپنے ہی اندر کے کسی تاریک کونے میں ایک چھوٹا سا شیشے کا گھر بنا لیتے ہیں،ایک ایسا گھر جسے ہم اپنی ذات کہتے ہیں اور جہاں ہر آہٹ کے ساتھ ٹوٹ جانے کا خوف موجود رہتا ہے۔

ہم سب اپنے چہروں پر ایک نقاب سجائے پھرتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے تو ہم کام کاج اور مصروفیات کی بھیڑ میں شامل ہو جاتے ہیں، جہاں مسکرانا ایک ضرورت اور خود کو مضبوط دکھانا ایک مجبوری بن جاتا ہے۔ مگر اس سارے شور میں جب کبھی ہم اپنے شیشے کے گھر میں واپس آتے ہیں تو آئینے سے جھانکتی ہوئی آنکھیں ہم سے ایک ہی سوال کرتی ہیں:
تم جو باہر دکھائی دیتے ہو، کیا اندر سے بھی وہی ہو؟

حقیقت یہ ہے کہ انسان کا وجود شیشے سے بھی زیادہ نازک ہے۔ ایک تلخ لفظ، ایک سرد رویہ یا ایک چھوٹی سی بے وفائی اس کے اندر کی دنیا کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اپنے اس نازک وجود کو بچاتے بچاتے کبھی کبھی خود ہی زخمی ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی سختیوں سے بچنے کے لیے ہم اپنے گرد مضبوط دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں، مگر پھر انہی دیواروں کے اندر تنہائی بڑھنے لگتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں اور اونچی اونچی دیواریں بھی اتنی جلدی نہیں گرتیں جتنی جلدی انسان کا اندرونی یقین اور اعتبار ٹوٹ جاتا ہے۔ کسی عمارت کی دراڑ شاید آنکھ سے دکھائی دے جائے، مگر دل میں پڑنے والی دراڑ اکثر نظر نہیں آتی۔ وہ خاموشی سے انسان کے اندر پھیلتی رہتی ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ انسان تنہا ہو گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اندر کے شیشے کے گھر کو پتھروں کی دنیا سے بچانے کے لیے اپنے دل کے دروازے ہی بند کر لیے ہیں۔ ہم نے خود کو اتنا سخت کر لیا ہے کہ نہ محبت کی روشنی اندر آتی ہے اور نہ ہمدردی کی ہوا۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر دل کھولا تو کوئی اسے توڑ دے گا، اس لیے ہم نے دل کو محفوظ رکھنے کے نام پر اسے تنہا کر دیا ہے

لیکن کیا واقعی مضبوط ہونے کا مطلب یہی ہے؟

شاید زندگی کی اصل خوبصورتی اپنی نازک دلی کو بچائے رکھنے میں ہے۔ شیشہ ٹوٹ جائے تو اس کی کرچیاں ہاتھ زخمی کرتی ہیں، مگر احساس کا شیشہ ٹوٹ جائے تو زخم روح پر لگتے ہیں۔ انسان کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ کبھی دکھ محسوس نہ کرے، بلکہ اس میں ہے کہ دکھ سہنے کے باوجود اس کے اندر محبت، رحم اور احساس زندہ رہے۔

دنیا چاہے جتنی بھی پتھر دل ہو جائے، ہمیں اپنے اندر کے اس شیشے کو مکمل طور پر پتھر میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ کیونکہ جب انسان دوسروں کے درد کو محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ شاید مضبوط تو دکھائی دینے لگتا ہے، مگر اندر سے انسان کم اور ایک خالی وجود زیادہ بن جاتا ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دنیا کی سختیوں کا جواب ہم سختی سے دیں گے یا اپنی انسانیت کو بچا کر۔ ہر زخم کے بعد دل کو بند کر لینا آسان ہے، لیکن زخم کے باوجود کسی پر اعتماد کرنا، کسی کے دکھ کو سمجھنا اور محبت کے لیے دل میں جگہ باقی رکھنا ہی شاید اصل بہادری ہے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک لمحے کے لیے ٹھہریں، اپنے گرد بنائی گئی مضبوطی کی اس دیوار کو دیکھیں اور خود سے ایک سچا سوال کریں،
کیا ہم نے واقعی دنیا سے لڑنا سیکھ لیا ہے، یا ہم صرف اپنے اندر کی اس نازک، شیشے جیسی سچائی کو چھپانے کے لیے پتھر بننے کا ناٹک کر رہے ہیں؟
کیونکہ اگر ایک دن ہماری ظاہری مضبوطی کا یہ پردہ بھی ٹوٹ گیا تو اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم کتنے مضبوط دکھائی دیتے تھے؛ اصل سوال یہ ہوگا کہ ہمارے اندر کچھ نرم، کچھ زندہ، کچھ انسان باقی بھی تھا یا نہیں۔
شاید ہمیں پتھر کے اس شہر میں شیشے کا گھر بچا کر رکھنا چاہیے—کیونکہ یہی گھر ہماری انسانیت کا آخری ٹھکانہ ہے۔

More posts