Baaghi TV

عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

Imran Khan

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص ہوئی ہے

ماہرین امراض چشم کے مطابق یہ عارضہ عموماً عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا ہے اور اس کا تعلق دل اور خون کی نالیوں سے جڑے خطراتی عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے ہوتا ہے سی آر وی او اس وقت ہوتا ہے جب ریٹینا (آنکھ کے پردے) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ، جسے سینٹرل ریٹینل وین کہا جاتا ہے، بند ہو جاتی ہے، جو عموماً خون کے لوتھڑے (clot) کے باعث ہوتا ہے اس رکاوٹ کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے، جس سے ریٹینا میں سوجن، رطوبت اور خون کا رساؤ اور بعض اوقات آنکھ کے اندر خون بہنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس کے باعث نظر اچانک یا بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔

سی‌آر وی او کے مریضوں کو قریبی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کچھ مریضوں میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس بیماری کو بعض اوقات غیر رسمی طور پر “سو دن کا گلوکوما” بھی کہا جاتا ہے، جو دراصل نیو ویسکیولر گلوکوما کی طرف اشارہ ہے یہ ایک پیچیدگی ہے جو شدید ریٹینل وین اوکلوژن کے بعد پیدا ہو سکتی ہے، جب غیر معمولی نئی خون کی نالیاں بنتی ہیں اور آنکھ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

ماہرِ چشم جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ یہ صرف آنکھوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ جسم میں موجود خون کی نالیوں کی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے مریض کی مجموعی صحت کی سخت نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی نظر کم ہونے پر تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس میں ریٹینا کی امیجنگ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) شامل تھی یہ معائنہ اڈیالہ جیل میں کیا گیا ان نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹروں نے اسپتال میں فالو اَپ علاج کا مشورہ دیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے رات گئے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تاکہ تجویز کردہ طریقۂ علاج کیا جا سکے۔

پمز میں عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف دوا کا آنکھ کے اندر انجیکشن دیا گیا، جو ریٹینا کی سوجن (جسے میکولر ایڈیما کہا جاتا ہے) کم کرنے اور خون کی نالیوں سے ہونے والے رساؤ کے باعث مزید نقصان کو روکنے کے لیے ایک معیاری علاج ہے ماہرِ چشم کے مطابق اس نوعیت کے انجیکشن عموماً ماہانہ بنیادوں پر لگانے پڑتے ہیں، خاص طور پر علاج کے ابتدائی مرحلے میں،زیادہ امکان ہے کہ انہیں ہر ماہ مزید انجیکشنز کی ضرورت پڑے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریٹینا علاج پر کس طرح ردِعمل دیتا ہے۔

انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

More posts