امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے منگل کے روز مینیسوٹا میں ٹاؤن ہال کے دوران حملے کے بعد کہا ہے کہ حملہ آور خاص طور پر ٹرمپ کے سومی باشندوں کی ملک بدر کرنے کے احکامات پر ناراض تھا۔
الہان عمر نے منگل کو مینیپولس میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ہر بار جب صدر نے میرے اور میری کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی، مجھے موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اگر ٹرمپ اقتدار میں نہ ہوتے تو انہیں حکومت سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
واضح رہے کہ حملہ آور جیمز کازمیرچاک نے الہان عمر پر سرنج سے کسی مادے کو چھڑکنے کی کوشش کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ مادہ ایپل سائڈر ونیگر تھا، ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ اس پر ابھی باقاعدہ الزامات عائد نہیں ہوئے،امریکی قانون کے مطابق کانگریس کے رکن پر حملہ کرنا وفاقی جرم ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
ٹرمپ نے ماضی میں الہان عمر کو ان کے وطن صومالیہ کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا 2019 میں انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا کہ الہان عمر اور دیگر خواتین کانگریس رکن ملک واپس جائیں، حالیہ برسوں میں ٹرمپ نے الہان عمر کو فراڈ کے الزامات سے بھی جوڑا۔
کانگریس کے دیگر رہنماﺅں نے حملے کی مذمت کی رپبلکن رکن نیتھنئیل موران نے کہا کہ سیاسی یا مذہبی اختلافات کسی بھی حالت میں تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔ تاہم کچھ رپبلکن رہنماﺅں نے الہان پر تنقید بھی کی، جن میں سینٹر ٹومی ٹیوبرویل اور رپبلیکن رینڈ فائن شامل ہیں، جنہوں نے اس واقعے کو الہان کے لیے خطرہ قرار دینے کے بجائے اس پر تنقید کی۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کھیلا جائے گا
امریکا میں سیاسی تشدد کے خطرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیپیٹل پولیس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کانگریس اراکین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف 14,938 دھمکیاں موصول ہوئیں، جو 2024 کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔
