بھارتی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کے رکن اسمبلی گیان تیواری نے اپنے داماد اور اس کے خاندان پر مبینہ دھوکا دہی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے ہوئی جس نے مبینہ طور پر جعلی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے مختلف خواتین سے تقریباً 25 شادیاں کیں اور کئی خواتین سے کروڑوں روپے ہتھیائے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے رکن اسمبلی کی شکایت پر مقدمہ درج کرتے ہوئے انوج تریویدی اور ان کے بیٹے پرکھر تریویدی کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گیان تیواری کے مطابق ان کی بیٹی پراگیا کی شادی 2024 میں چندراول کے رہائشی پرکھر تریویدی سے ہوئی تھی۔ شادی کے وقت انوج تریویدی نے مبینہ طور پر خود کو ممبئی میں مقیم ایک معروف رئیل اسٹیٹ کاروباری ظاہر کیا تھا۔
رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ شادی سے قبل خاندان کی جانب سے مقامی سطح پر معلومات حاصل کی گئی تھیں اور بااثر افراد سے بھی تصدیق کی گئی، تاہم شادی کے تقریباً ڈھائی سال بعد انہیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پرکھر تریویدی کی مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملیں۔
شکایت کے مطابق پرکھر نے مبینہ طور پر مختلف ناموں اور شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے متعدد خواتین سے تعلقات قائم کیے اور انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ گیان تیواری نے دعویٰ کیا کہ پرکھر کی ایسی شادیوں کی تعداد تقریباً 25 تک پہنچتی ہے۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ انکشافات کے بعد انہوں نے ملزم خاندان سے تمام سماجی اور ذاتی تعلقات ختم کردیے اور اپنی بیٹی کو واپس گھر لے آئے۔ ان کے مطابق اس معاملے نے خاندان کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا جبکہ ان کی سماجی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
پولیس کے مطابق شکایت کی بنیاد پر انوج تریویدی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ گرفتار افراد سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مبینہ جعلی شناختوں اور متعدد شادیوں کے ذریعے کتنی خواتین کو نشانہ بنایا گیا اور مالی نقصان کی مجموعی مالیت کتنی ہے۔
بھارتی رکن اسمبلی کی بیٹی کا شوہر نکلا 25 شادیوں کا مبینہ ملزم
