ملتان: نشتر ہسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھ گئے، 400 فائر ایکسٹنگوشرز میں سے صرف 275 فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ 100 سے زائد ایکسٹنگوشرز خستہ حال یا ناقابل استعمال حالت میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میعاد پوری کرنے والے فائر ایکسٹنگوشرز کو فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ ہسپتال میں ایمرجنسی کی صورت میں انخلا کا نظام بھی مؤثر دکھائی نہیں دیتا۔ ایمرجنسی ایگزٹ کے بعض دروازوں پر تالے لگے ہونے کے باعث مریضوں اور لواحقین کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔
نشتر ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی ڈرلز باقاعدگی سے کرائی جاتی ہیں۔ ایم ایس نشتر کے مطابق فائر سیفٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے واٹر ہائیڈرنٹ کی ضرورت ہے، جس کی فراہمی کے لیے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو سفارشات بھجوا دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارڈیالوجی، نشتر ٹو اور چلڈرن ہسپتال میں بھی فائر سیفٹی آلات کی کمی سامنے آئی ہے، جس کے باعث سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فائر سیفٹی آلات کی مکمل انسپکشن کرائی جائے، خراب اور زائد المیعاد آلات فوری تبدیل کیے جائیں اور ایمرجنسی ایگزٹ کے راستوں کو ہر وقت کھلا رکھا جائے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جاسکے۔
