Baaghi TV

آئی فون کے پرزے بنانے والی بھارتی فیکٹری کو تحقیقات کا سامنا

apple

ایک بھارتی ریاستی صحت کی اتھارٹی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ایپل سپلائر ٹاٹا کی آئی فون کے اجزاء کی فیکٹری سے خارج ہونے والے مائع نے کسانوں کو کس طرح متاثر کیا ہے، جن میں سے کچھ نے اپنے کھیتوں میں آلودگی سے جلد کے مسائل کی شکایت کی تھی-

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی ریاست تمل ناڈو میں ایپل کے سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس کی آئی فون پرزے بنانے والی فیکٹری کے خلاف آلودگی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ریاستی محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کر دی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ بعض کسانوں نے شکایت کی ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے مائع فضلے نے ان کی زرعی زمینوں اور پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے، جبکہ کچھ افراد کو جلد سے متعلق مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ہوسور میں واقع ٹاٹا الیکٹرانکس پلانٹ کو 25 مئی کو تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے انتباہی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں قریبی زرعی علاقوں کے زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ تاہم ٹاٹا کمپنی کا کہنا ہے کہ حالیہ پانی کے نمونوں کے تجزیے میں کسی قسم کی آلودگی ثابت نہیں ہوئی۔

محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں سے لیے گئے پانی کے دو نمونوں میں ای کولی نامی بیکٹیریا پایا گیا، جو پانی میں فضلاتی آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید ٹیسٹ نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہےکسانوں کا دعویٰ ہے کہ فیکٹری کے فضلے نے کنوؤں اور زرعی زمینوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بعض زمینیں غیر زرخیز ہوتی جا رہی ہیں مقامی کسان گورومورتی وی کے مطابق اس پانی سے اگنے والی فصلیں کچھ عرصے بعد مرجھا کر ختم ہو جاتی ہیں۔

تمل ناڈو میں پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے اپریل میں لیے گئے پانی کے نمونوں میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز کی مقدار بھی مقررہ حد سے دوگنا سے زیادہ پائی گئی، جس پر ماحولیاتی ماہر ین نے تشویش کا اظہار کیا ہےتحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق بھارت 2026 تک دنیا کے 26 فیصد آئی فونز تیار کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جبکہ چار سال قبل یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔

تمل ناڈو بھارت کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں ٹاٹا کمپنی کا ایک اور آئی فون اسمبلی پلانٹ بھی موجود ہے، جبکہ سام سنگ اور ہنڈائی موٹر کی بڑی فیکٹریاں بھی اسی ریاست میں کام کر رہی ہیں۔

More posts