ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عارضی امن معاہدے کے تحت آج سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوں گے۔
اس انتہائی اہم اور بڑے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ان اہم مذاکرات کا حصہ بنیں گےامریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں موجود ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ایران کا وفد بھی ا ن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ہے جہاں سوئس حکومت کے وزارتِ خارجہ کے افسران نے ان کا شاندار استقبال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس وفد کی سربراہی باقر قالیباف کر رہے ہیں اور اس میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی جیسے بڑے نام شامل ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان مذاکرات کے بارے میں کہا کہ میں سوئٹزرلینڈ میں ایک یا دو دن قیام کروں گا، مجھے پوری امید ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام اور لبنان کے معاملے پر کوئی اچھی پیشرفت دیکھنے کو ملے گی،لبنان میں جاری لڑائی کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، اور ہم اسرائیل کو لبنان پر مزید حملے کرنے سے روکنے کے لیے اپنا پورا کام کریں گے۔
پاکستان اس پورے امن مشن میں ایک مرکزی اور بڑے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے خصوصی ملاقات کی اس ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرائی سے بات چیت کی گئی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران میں اس اہم بیٹھک سے پہلے پاکستانی وزیرِ داخلہ نے مشہد شہر کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے حضرت امام علی رضا کے روضہ مبارک پر حاضری دی اور دعا کی، مشہد پہنچنے پر وہاں کے گورنر جنرل نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
