تہران: ایران نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ترجمان نے واضح کیا کہ غیر رسمی یا پرائیویٹ پیغامات کا تبادلہ باقاعدہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں شفاف، سنجیدہ اور باضابطہ سفارتی مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، جبکہ خفیہ یا غیر رسمی رابطے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس اور چین کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تعاون علاقائی استحکام، مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے، اور ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مغربی ممالک نے عالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کو سائیڈ لائن سفارتی ملاقاتوں سے روکنے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق اس اقدام سے مغربی طاقتوں کی دوغلی پالیسی اور سفارتی عدم برداشت ظاہر ہوتی ہے، جو بامعنی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت، دباؤ یا دھمکی کا جواب اپنی قومی صلاحیتوں کے مطابق دیا جائے گا۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے۔
