مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے ایک بار پھر میزائلوں کی نئی لہر فائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی افواج نے تازہ میزائل حملوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ان حملوں کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں،ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب جدید اور زیادہ طاقتور ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ کرے گا، بالخصوص بیلسٹک میزائلوں اور زیادہ تباہ کن صلا حیت رکھنے والے دیگر میزائلوں کا استعمال بڑھایا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے متحدہ عرب امارات میں رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اہم بندرگاہوں کے اطراف کے علاقوں کو خالی کر دیں، دبئی کی جبل علی بندرگاہ، ابوظہبی کی خلیفہ بندرگاہ اور فجیرہ بندرگاہ کے اردگرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا کہا گیا ہے ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں شہری تنصیبات کے درمیان امریکی فوجی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہےکہ ان علاقوں کو آنے والے گھنٹوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ
ایران اس دوران اسرائیل اور خلیج کے بعض پڑوسی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اسی کے ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی تجارت گزرتی ہےدوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیارے ایران کے اندر مختلف فوجی اور دیگر اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اس صورتحال نے پورے خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے اور کئی ممالک ہائی الرٹ پر چلے گئے ہیں۔
پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں، خطے کے ممالک اور عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
