ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سمندری راستوں پر پابندی لگانے کی امریکی دھمکی خود امریکا کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے سے متعلق امریکی انتباہ پر کہا کہ یہ اقدام الٹا امریکی عوام کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب پیٹرول کی قیمتوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور خبردار کیا کہ موجودہ قیمتیں جلد ہی لوگوں کو سستی محسوس ہونے لگیں گی موجودہ پیٹرول کی قیمتوں سے لطف اٹھائیں، اور خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکی عوام جلد ہی فی گیلن 4 سے 5 ڈالر کی قیمتوں کو یاد کریں گے۔
قالیباف نے اپنے پیغام میں ایک پیچیدہ ایکویشن بھی شیئر کی ”O_BSOH > 0 f(f(O)) > f(O)“ جسے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انجینئرنگ پس منظر کی عکاسی کرنے والا طنزیہ انداز قرار دیا اس میں ’BSOH‘ سے مراد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے، جبکہ ’O_BSOH > 0‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناکہ بندی کے اثرات میں اضافہ تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالے گا۔
یہ ایکویشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی ابتدائی دھچکے پر عالمی منڈی کا ردعمل (f(O)) بعد کے اثرات (f(f(O))) کے ذریعے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ممکن ہےسادہ الفاظ میں آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھانے سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ اس کے اثرات تسلسل کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کو موجودہ سطح 4 سے 5 ڈالر فی گیلن سے کہیں زیادہ لے جا سکتے ہیں۔
