پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے دبئی کے گولڈن ویزا کی پیشکش قبول نہ کرنے کی وجہ واضح کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں ایک ویب شو میں شرکت کے دوران انہوں نے دبئی کے گولڈن ویزا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں یہ پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔اداکارہ کے مطابق متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی میں اگرچہ دولت اور سہولیات کی فراوانی ہے، لیکن ان کے خیال میں وہاں تعلیمی اور فکری ترقی کے لیے وہ ادارے موجود نہیں جو ایک مضبوط علمی معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں، جیسے عالمی معیار کی بڑی جامعات۔بشریٰ انصاری نے کہا کہ اگر اس نوعیت کے ادارے قائم کیے جاتے تو وہاں کے لوگ مزید علمی اور فکری طور پر مضبوط ہوتے اور دنیا کو بہتر انداز میں مقابلہ دے سکتے۔انہوں نے دبئی کے بارے میں اپنے ذاتی مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہر چیز برانڈڈ اور مہنگی نظر آتی ہے، لوگ مہنگے پرفیوم، بیگز اور دیگر لگژری اشیاء استعمال کرتے ہیں، جس سے انہیں وہاں کا ماحول کچھ حد تک مصنوعی محسوس ہوتا ہے۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انہیں گولڈن ویزا کی پیشکش ایک ٹریول ایجنٹ کی جانب سے مفت بھی کی گئی تھی، تاہم انہوں نے ذاتی دلچسپی نہ ہونے اور رشتے دار نہ ہونے کے باعث یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
