28 فروری سے 3 اپریل 2026 تک جاری رہنے والے مبینہ فوجی آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مختلف اوپن سورس انٹیلیجنس رپورٹس، کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متعدد جدید طیارے اور فوجی اثاثے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ F-35 Lightning II ایرانی فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ کر نقصان کا شکار ہوا۔ اس طیارے کی فی یونٹ لاگت تقریباً 110 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسی طرح F-15E Strike Eagle کے چار طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین کویت کے اوپر جبکہ ایک ایران کے اندر مار گرایا گیا۔ اس طیارے کی ابتدائی لاگت 1998 میں 270 ملین ڈالر تھی جو اب اندازاً 700 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔مزید برآں، قریبی فضائی مدد فراہم کرنے والا A-10 Thunderbolt II بھی ایرانی میزائل سسٹم کا نشانہ بنا، جس کی مالیت تقریباً 18.8 ملین ڈالر ہے۔اہم فضائی نگرانی طیارہ E-3 Sentry AWACS کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہ کر دیا گیا، جس کی لاگت تقریباً 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
ہیلی کاپٹروں کے حوالے سے بھی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک HH-60M Black Hawk عراق میں تباہ جبکہ دو HH-60W Jolly Green II ایران کے اوپر پرواز کے دوران نقصان کا شکار ہوئے۔ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے KC-135 Stratotanker طیاروں میں سے کم از کم دو مکمل طور پر تباہ جبکہ پانچ کو شدید نقصان پہنچا۔
ڈرونز کے محاذ پر بھی امریکی فوج کو بڑا دھچکا لگا، جہاں 17 MQ-9 Reaper یو سی اے ویز تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک MQ-9 ریپر کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

