ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر سمندری اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپی ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کے ترجمان حامد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران پر بڑھتا ہوا امریکی دباؤ عالمی توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں تیل اور گیس کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
حامد رضا نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب دنیا کی دو انتہائی اہم اور تزویراتی آبی گزرگاہیں ہیں، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی وسائل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ان کے مطابق ان سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ سمیت عالمی معیشت بھی اس کے اثرات محسوس کرے گی۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور توانائی کے عالمی تجارتی راستوں کی سلامتی پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکی دباؤ سے عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے: ایران
