Baaghi TV

ایران کا آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کے تباہ ہونے کا دعویٰ

‎ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ دونوں فریقوں کے متضاد بیانات کے باعث اس واقعے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں شدید دھماکے ہوئے اور دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے مطابق یہ دونوں ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں واقع اس راستے سے گزر رہے تھے جہاں بارودی سرنگیں موجود تھیں، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے آئی آر جی سی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے اور عملاً بند ہے۔
‎دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں دو آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے تباہ ہونے کی خبر درست نہیں ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس حوالے سے ایران کا دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں۔
‎یہ متضاد دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل ساتویں رات ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں پل، توانائی کی تنصیبات، بندرگاہی ڈھانچے اور دیگر اہم انفراسٹرکچر شامل تھے۔
‎ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ امریکی فوج نے بھی خطے میں جاری کارروائیوں کے دوران اپنے مزید اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
‎دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی تصدیق شدہ سیکیورٹی واقعے کے عالمی تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال دونوں آئل ٹینکروں سے متعلق ایرانی دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

More posts