ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-
ترک خبر رساں ایجنسی ’انا دولو‘ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد سیاسی رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور عراق کی مشترکہ سرحد کے قریب مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،گفتگو کے دوران بافل طالبانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جنہیں ایرانی بیان میں ’امریکی اور صہیونی جرم‘ کا نشانہ قرار دیا گیا۔
رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سرحدی علاقوں میں “دہشت گرد نقل و حرکت” کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان موجود سیکیورٹی مفاہمتوں کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا بافل طالبانی نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں جانب تعاون اور رابطہ کاری کے ذریعے کسی بھی ممکنہ عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمی کو روکا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
"آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان
