پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔
تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔
ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔
ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔
