اسلام آباد سے انسانی اعضا برآمد ہونے کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا
ملزمان سے ابتدائی تفتیش کے دوران ایف آئی اے اور ہوٹا کی ایک اور مشترکہ کاروائی ،سیکٹر ای الیون سے بھی غیر قانونی انسانی اعضا کی بھاری تعداد برآمد کر لی گئی،مخصوص انسانی اعضا پلسنٹا PLACENTA کو پراسیس کرکے ریفریجریٹرز میں رکھا گیا تھا ،ای الیون سے انسانی اعضا پلسنٹا کے درجنوں کنٹینرز بھی برآمد کر لئے گئے،چھاپے کے دوران مزید دو پاکستانی ورکرز امجد اقبال اور محمد ناصر کو حراست میں لے لیا گیا ،ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ HOTA ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی ایڈمن آفسیر حنا کنول کی درخواست پر درج کیا گیا،مزید تفتیش کیلئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل عمر ارسلان کی سربراہی میں خصوصی ٹیم مقرر کر دی گئی،ٹیم میں سب انسپکٹر کاشف سعید ، سب انسپکٹر محمد جنید اور ایس آئی تابش بھی شامل ہیں،تیار شدہ مصنوعات شی پلیسینٹا کے نام سے بیرون ملک ویتنام برآمد کی جاتی تھیں
